.

’’استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے 2020ء کے انتخاب کی تیاری کریں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے کہا ہے کہ ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے اقتدار میں آنے کے لئے 2020ء کو ہونے والے عام انتخابات کی تیاری کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔

عمر البشیر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت عوامی مینڈیٹ رکھتی ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے متفقہ ادارے کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار میں آئے ہیں۔

انھوں نے کہا تمام سیاسی جماعتوں کا ملک کے حالیہ دستور پر اتفاق ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ چند حلقے ملک میں ہونے والے احتجاج کو اپنے تباہ کن سیاسی ایجنڈے کے لئے بطور ڈھال استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ادھر سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایک نشریئے میں بتایا ہے کہ صدر عمر البشیر نے ادویہ کی قمیتوں کو عام افراد کی قوت خرید سے باہر جانے کی پاداش میں وزیر صحت محمد ابو زید مصطفیٰ کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا ہے۔

درایں اثنا سوڈان کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ معتز موسیٰ نے سوڈانی نوجوانوں کے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مظاہروں میں بیان کردہ مطالبات واضح ہیں اور ایسے مطالبات کے لئے آواز اٹھانا بری بات نہیں اور قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔

معتز موسی نے مزید کہا کہ حکومت اقتصادی بحران کو حل کرنے کی خاطر چند باتوں پر عمل کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے خیال ظاہر کیا کہ سوڈان میں ہونے والے مظاہروں میں سیاسی مداخلت کی جنتی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ سوڈان کو درپیش حالیہ سیاسی بحران کا حل 2020ء کو ہونے والے آزاد اور شفاف انتخابات میں پوشیدہ ہے۔ سوڈانی وزیر نے کہا کہ وہ عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ ’’عوام ان انتخابات میں جس کا چناو کریں گے، ہم اسے قبول کریں گے۔‘‘

’’ملک کو گزند پہنچانا سرخ لائن عبور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی وہ ملک اور سیاسی رسہ کشی کے درمیان فرق کریں۔‘‘

وزیر اعظم معتز موسی نے اعلان کیا کہ ملک کو درپیش مالیاتی بحران فروری کے اختتام کے تک حل ہو جائے گا اور مارچ کے اختتام پر ہم اس پر مکمل طور پر قابو پا لیں گے۔ ’’حکومت کی اختیار کردہ پالیسیوں سے متوازی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کم ہو رہی ہے۔‘‘

سوڈانی حکومت کی جانب بحران حل کرنے کے دعدوں کے باوجود سوڈان کی پیشہ وارانہ تنظیموں نے آج بروز اتوار تین بڑے شہروں میں احتجاجی جلوس نکالنے کی کال دے رکھی ہے۔

ادھر دارلحکومت خرطوم میں وزارت تعلیم کے اعلان کی روشنی میں منگل کے روز سے تعلیمی سرگرمیاں ازسو نو شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، یونیورسٹیوں کی سطح پر ایسا اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔