.

الجزائر کی نئی ملکہ حسن نسل پرستی کے گرداب میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں 2019 کے ملکہ حسن کا ٹائٹل اپنے نام کرنے والی نوجوان خاتون خدیجہ بن حمّو کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بہت سے حلقوں نے انہیں "سانولا اور کم صورت" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اعزاز کو پانے کی مستحق نہیں۔ دوسری جانب بعض حلقوں نے خدیجہ کا دفاع کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ مقابلے میں منتخب کیے جانے کا معیار ظاہری شکل و صورت سے ماورا ہوتا ہے۔ یہ محض چہرے کی رنگت اور جمال پر مرکوز نہیں بلکہ ان مقابلوں کے فیصلے میں دیگر معیارات بھی ہوتے ہیں۔

الجزائر میں ہفتے کے روز منعقد ہونے والے مقابلہ حسن میں جیوری نے جنوبی ریاست ادرار سے تعلق رکھنے والی خدیجہ بن حمو کو سال 2019 کے لیے ملکہ حسن کا تاج پہنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مقابلے میں ملک بھر سے 16 حسیناؤں کے بیچ مقابلہ تھا۔

جیت کے اعلان کے ساتھ ہی رواں سال کے لیے الجزائر کی ملکہ حسن کی تصاویر سوشل میڈیا پر چھا گئیں۔ اس دوران مختلف افراد نے خدیجہ کی شکل و صورت پر استہزائیہ حد تک نکتہ چینی کی اور حسن و جمال کے اعلی ترین تخت پر بٹھانے کے لیے خدیجہ کی شخصیت کو غیر موزوں قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر مختلف ردود عمل میں کہا گیا کہ یہ الجزائر کی ملکہ حسن کے نام پر بدترین اختیار ہے کیوں کہ اسے عالمی سطح پر اپنے ملک کے نام کی نمائندگی کرنا ہو گی۔ ایک تبصرے میں یہ کہا گیا کہ مقابلے کی جیوری میں شامل افراد کو فوری طور پر آنکھوں کے علاج کی ضرورت ہے، ساری دنیا اس وقت الجزائر کی ملکہ حسن پر ہنس رہی ہے۔

دوسری جانب بعض تبصروں میں خدیجہ بن حمو کا دفاع سامنے آیا۔ ایک خاتون نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ملکہ حسن کا انتخاب جلد کی گوری رنگت یا چہرے کے خد و خال پر منحصر نہیں بلکہ یہ یقینا تہذیب اور انسانی پہلوؤں کے ساتھ خداداد ذکاوت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ مربوط ہے۔

اس حوالے سے بلاگر ہشام نے کہا کہ ملکہ حسن کا اعزاز حاصل کرنے والی نوجوان خاتون کو نکتہ چینی کا نشانہ بنائے جانے سے اس نسلی تعصب کا چہرہ بے نقاب ہو گیا جو گوری رنگت والے سانولی رنگت کے لیے اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں۔

خدیجہ بن حمّو نے تنقید سے قبل اپنی جیت کے اعلان کے فوری بعد کہا کہ ملکہ حسن کے طور پر ان کا انتخاب ثقافت، تہذیب، مسکراہٹ اور رفاہی سرگرمیوں کی بنیاد پر عمل میں آیا ہے۔