.

اپوزیشن کو واجب القتل قرار دینے والے ترک مفتی سے ہالینڈ میں باز پُرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ترک صدر طیب ایردوآن کے مقرب ایک مذہبی رہ نما اور مفتی کے اس بیان کی تحقیقات کررہا ہے جس میں انہوں نے اپوزیشن رہ نمائوں اور کارکنوں کو واجب القتل قراردیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق ترک صدر کےوفادار اور اسلامی یونیورسٹی کے چیئرمین احمد آق کوندوز نے روٹرڈم میں ترکی کے 'اکیت ٹی وی' کو ٹیلیفون پردیئےگئے انٹرویو میں‌کہا تھا کہ ترکی کے دشمن واجب القتل ہیں، انہیں پھانسی دے دینی چاہیے۔ چاہے وہ اولیا اللہ اور پرہیز گار ہی کیوں‌نہ ہوں۔

اخبار"زمان" کے مطابق احمد آق کوندوز کا اشارہ ترک حکومت کے مخالف سمجھے جانے والے مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن اور ان کے حامیوں کی طرف تھا۔

کوندوز نے اپنے دعوے کی حمایت کےلیے قرآن پاک کی سورۃ الحجرات کی ایک آیت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والے واجب القتل ہیں۔

مفتی ایردآن کے لقب سے مشہور مذہبی رہنما نے کہاکہ اگرچہ فتح اللہ گولن کی جماعت نے ماضی میں کچھ اچھے کام کیے ہیں مگر 15 جولائی 2016ء کو منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اسلامی شریعت کی رو سے اسلام سے بغاوت کے مترادف ہے۔

ترکی کی سرپرستی میں ہالینڈ میں قائم اسلامی یونیورسٹی کے چیئرمین کے اس بیان کے بعد ہالینڈ کی وزیر تعلیم انگریڈفان انگلسھوفن نے کا کہ کوندوز کا بیان انتہائی خوف ناک ہے اور انہوں نے اس بیان کی وضاحت کے حصول کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو جلد ہی اپنےنتائج سے آگاہ کرے گی۔

اخبار "زمان" کے مطابق آق کوندوز تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں۔ وہ بھول رہےہیں کہ حکومت نے بغاوت کچلنے کی آڑ میں ملک بھر میں کس بے دردی کے ساتھ کریک‌ڈائون شروع کر رکھا ہے۔ 60 ہزار افراد کو بے رحمی کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ ان میں 18 ہزار خواتین جن میں حاملہ بھی شامل ہیں کو حراست میں لیا گیا۔ 713 بچوں کو گرفتار کیا گیا اور بڑے پیمانے پر مخالفین کی جائیدادوں پرقبضے کیےگئے۔

خیال رہے کہ احمد آق کوندوز کی طرف سے اپوزیشن کے حامیوں کے خلاف سخت الفاظ کے استعمال کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ وہ اس سے قبل کردوں کو "کتے" قرار دے چکے ہیں۔