.

سوڈان: احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں 800 سے زیادہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں گذشتہ ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں 800 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سوڈانی وزیر داخلہ احمد بلال عثمان نے سوموار کو پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں 19 دسمبر کے بعد سے 381 احتجاجی مظاہرے ہوچکے ہیں ۔

انھوں نے پارلیمان کے ارکان کو بتایا ہے کہ مظاہروں کے دوران میں 118 عمارتوں کو نذرآتش کیا گیا ہے یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ان میں 18 عمارتیں محکمہ پولیس کی تھیں،مظاہرین نے 194 گاڑیوں کو نذر آتش کیا ہے اور ان میں 15 بین الاقوامی تنظیموں کی تھیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے پُرامن انداز میں شروع ہوئے تھے لیکن بعد میں بعض ٹھگ ان میں شامل ہوگئے ۔ان کا اپنا خفیہ ایجنڈا تھا اور انھوں نے لوٹ مار شروع کردی لیکن اب ملک بھر میں صورت حال ’’ پُرامن اور مستحکم‘‘ ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سوڈانی حکومت نے ان احتجاجی مظاہروں میں 816 افراد کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تشدد کے واقعات میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 19 افراد مارے گئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ہلاکتوں کی تعداد 37 بتائی ہے۔

گذشتہ ماہ یہ مظاہرے حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے لیکن اس کے بعد احتجاجی مظاہرین نے صدر عمر حسن البشیر سے استعفے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔سوڈانی صدر نے اتوار کو ایک بیان میں استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاری کریں اور انتخاب جیت کر اقتدار میں آئیں۔