گریفتھس صنعاء سے روانہ، سویڈن معاہدے کے ضمن میں پیش رفت ندارد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس دو روز تک حوثیوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ باغی ملیشیا الحدیدہ اور اس بندرگاہوں سے نکل جائے اور اس کی جگہ مقامی سکیورٹی فورسز لے لیں۔ تاہم ان کوششوں کے نتیجے میں واقعتا کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ حوثی ملیشیا بدستور اس امر پر مصر ہیں کہ سویڈن معاہدے کے ساتھ قائمقام مقامی حکام کا تعلق ہے نہ کہ ان منتخب مقامی حکام کا جن کے بارے میں حکومتی فریق کی جانب سے بات کی جاتی ہے۔

دوسری جانب یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے دورہ ریاض سے قبل زور دے کر کہا ہے کہ جنرل پیٹرک کمائرٹ کے منصوبے کے مطابق الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں سے حوثیوں کے انخلا کی ضرورت ہے۔ یمنی صدر نے حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیاکہ وہ سویڈن معاہدے پر عمل درامد میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

ادھر حوثیوں کے ایک رہ نما نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ اردن کے دارالحکومت عمّان میں یمن کے تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان "اقتصادی مشاورت" کا انعقاد ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں مذکورہ رہ نما نے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں