.

گیبون میں صدر علی بونگو کے خلاف بغاوت کی کوشش کے الزام میں چارفوجی افسر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک گیبون میں حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کے الزام میں چار فوجی افسروں کو دارالحکومت لیبر ویل میں سرکاری ریڈیو اسٹیشن کی عمارت سے گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پانچواں ساتھی افسر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

گیبون کی حکومت کے ترجمان گائے برٹرینڈ ماپانگو نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ پانچ فوجی افسروں نے بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی تھی اور انھوں نے مختصر وقت کے لیے سرکاری ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر لیا تھا۔ان میں سے چار کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پانچواں بھاگ گیا ہے ۔اب اس کی تلاش جاری ہے۔

قبل ازیں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ گیبون میں فوجی افسروں نے صدر علی بونگو کے خلاف سوموار کو علی الصباح بغاوت برپا کردی ہے اور سرکاری ریڈیو پر قبضہ کر لیا ہے۔انھوں نے صدر بونگو پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔علی بونگو تین ماہ قبل دل کا دورہ پڑنے کے بعد اس وقت مراکش میں زیر علاج ہیں۔

بغاوت کی ناکام کوشش کرنے والے خود ساختہ محب الوطن تحریک برائے دفاع اور سکیورٹی فورسز کے لیڈر لیفٹیننٹ کیلی اونڈو اوبیانگ نے کہا کہ’’ صدر بونگو کے نئے سال کے خطاب سے ان شبہات کو تقویت ملی تھی کہ وہ صدارتی ذمے داریاں جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں‘‘۔سرکاری ریڈیو پر ان کا پیغام مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چار بجے نشر کیا گیا تھا۔

ایک سرکاری ذریعے کے مطابق قومی ٹیلی ویژن اسٹیشن کے ارد گرد فائرنگ کی آوازیں سنائی دی تھیں لیکن بظاہر فوجیوں کے ایک چھوٹے گروپ نے بغاوت کی کوشش کی تھی۔

دارالحکومت میں سرکاری ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کے ارد گرد باغی گروپ کی حمایت میں کوئی تین سو افراد جمع ہوئے تھے لیکن فوجیوں نے اشک آور گیس کے گولے پھینک کر انھیں منتشر کردیا ۔ شہر میں مجموعی طور پر صورت حال پُرامن رہی ہے۔حکومت نے کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی تھی اور فضا میں ہیلی کاپٹر بھی پروازیں کررہے تھے۔

واضح رہے کہ 59 سالہ علی بونگو کو اکتوبر میں دل کا دورہ پڑا تھا ۔ پہلے وہ سعودی عرب میں ایک اسپتال میں زیر علاج رہے تھے اور نومبر میں انھیں مراکش منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ اپنا علاج کرا رہے ہیں۔انھوں نے نئے سال کے آغاز پر اپنی تقریر میں یہ تسلیم کیا تھا کہ انھیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ صحت یاب ہورہے ہیں۔ان کا دایاں بازو حرکت نہیں کر رہا تھا اور بعض الفاظ بھی ان کی زبان سے پھسل گئے تھے لیکن مجموعی طور پر وہ بہتر نظر آرہے تھے۔

بونگو خاندان گذشتہ قریباً نصف صدی سے تیل کی دولت سے مالامال گیبون میں برسراقتدار ہے۔بونگو 2009ء میں اپنے والد عمر کے انتقال کے بعد برسراقتدار آئے تھے۔2016ء میں وہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے لیکن ان کے مخالفین نے انتخابی عمل کے غیر شفاف ہونے اور دھاندلیوں کے الزامات عاید کیے تھے اور ان کی حکومت کے خلاف متشدد مظاہرے بھی ہوئے تھے۔