.

ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر کا لازمی حجاب کے لیے ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر علی مطہری نے ملک میں حجاب کی لازمی پابندی کے لیے ریفرینڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی شہری حجاب کے حق میں ووٹ دیں گے۔

انھوں نے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ایران میں پردے کی مخالف خواتین کی مہم کو ایک سال پورا ہونے کو ہے۔ گذشتہ سال بعض خواتین نے عوامی مقامات پر حجاب اتارنے کے حق میں مہم شروع کی تھی اور انھوں نے چہرے کے نقاب اتار دیے تھے۔اس کے ردعمل میں ایرانی حکام نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا اور بہت سی خواتین کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

علی مطہری ایران میں حجاب کی پابندی کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر سختی سے حجاب کی پابندی نہیں کرائی جارہی ہے۔ان کے بہ قول ’’اگر ریفرینڈم کا انعقاد کیا جاتا ہے تو ایرانی سوسائٹی خود حجاب کے حق میں ووٹ دے گی‘‘۔

حجاب مخالف مہم میں پیش پیش ایرانی خواتین نے انٹرنیٹ پر اپنی تصاویر اور ویڈیو جاری کی ہیں جن میں عوامی مقامات پر وہ چہرے کا نقاب اتار کر گھومتی پھرتی نظر آرہی ہیں۔ان کی ایسی ویڈیوز اور تصاویر کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر کی جارہی ہے۔

دوسری جانب ان کی مخالفت میں شدت آگئی ہے اور ایران کے روایتی علماء نصر مکرم شیرازی ، نوری ہمدانی اور جعفر سبحانی ماضی میں یہ شکایت کرچکے ہیں کہ خواتین درست طریقے سے حجاب نہیں اوڑھ رہی ہیں۔انھوں نے اس کو ’’ برے حجاب‘‘ کا نام دیا ہے۔

ایران کے تحقیقاتی مرکز برائے اسلامی قانون ساز اسمبلی نے رائے عامہ کے جائزوں پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے اور اس میں یہ کہا گیا ہے کہ نوجوان لڑکیوں اور بالخصوص یونیورسٹی کی گریجوایٹس میں حجاب اوڑھنے کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔

ایرانی شہر مشہد میں ایک قدامت پسند مبلغ احمد علم الہدیٰ نے گذشتہ جمعہ کو اپنے خطبے میں کہا تھا کہ ’’حجاب کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے معاشرے کی مذہبی شناخت تبدیل ہورہی ہے۔اب معروف شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر حجاب نہ اوڑھنے والی خواتین سے رواداری کا برتاؤ کرنے کا مطالبہ شروع کردیا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ باپردہ خواتین کے خلاف ترکی میں سازش کا آغاز ہوا ہے اور وہاں یہ کہا جار ہا ہے کہ حجاب اوڑھنے والی بعض خواتین غلط راہ پر چل نکلی ہیں اور وہ ڈسکو کلبوں میں بھی جاسکتی ہیں‘‘۔