.

ترکی سے لیبیا کو اسلحہ کی سپلائی کی سازش ناکام

انقرہ لیبیا سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کی مخالفت کا مرتکب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترکی سے غیرقانونی طورپر لیبیا میں اسلحہ کی سپلائی کی سازش ناکام بناتے ہوئے اسلحہ اور گولہ بارود سے لدا ایک ٹرک قبضے میں لے لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبی حکام کی طرف سے سوموار کو جاری ایک بیان میں کہا گیاہے کہ ترکی نے مصراتۃ بندرگاہ کے راستے لیبیا میں غیرقانونی طورپر اسلحہ کی سپلائی کی کوشش کی تھی۔ ترکی کا یہ اقدام لیبیا کے جنگجو گروپوں کواسلحہ کی فراہمی پر پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ سلامتی کونسل نے ایک قرارد منظور کی تھی جس میں 2011ء کے بعد لیبیا جاری افراتفری کی روک تھام کے لیے جنگجو گروپوں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مصراتۃبندرگاہ کے کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ حکام نے ترکی سے آنے والا اسلحہ کا ایک کنٹینر قبضے میں لے لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ترکی سے یہ اسلحہ گھروں میں استعمال ہونے والے عام سامان اور بچوں کے کھلونوں کے درمیان چھپایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ترکی سے آنے والے ایک جہاز سے ایک کنٹینر اتارا گیا جس میں 556 کاٹن تھے اور ان میں سے ہرایک میں 36 پستول چھپائے گئے تھے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہےکہ یہ اسلحہ کس گروپ کے لیے بھیجا گیا تھا

خیال رہے کہ لیبی حکام کی طرف سے ایک ماہ سے کم وقت میں ترکی سے اسلحہ کی سپلائی کی یہ دوسری سازش ناکام بنائی گئی ہے۔دو ہفتے پیشتر لیبیا کی خمس بندرگاہ سے بھی ایک جہاز پکڑا گیا تھا جس میں ترکی سے لیبیا کو اسلحہ سپلائی کیا گیا تھا۔

لیبیا کی فوج ترکی پر باغیوں کواسلحہ فراہم کرنے اور ملک میں افراتفری کو ہوا دینے کا الزام عاید کرتی ہے۔
لیبی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے سلامتی کونسل سے ترکی کی مذمت میں قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ترکی لیبیا میں جنگجوئوں کو اسلحہ اور دیگر امداد مہیا کرکے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔