.

شام سے امریکی فوج کے انخلاء میں احتیاط برتی جائے:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاء کی منصوبہ بندی میں احتیاط سے کام لیا جائے اور شام کے حوالے سے دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر فوج کے انخلاء کا عمل شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی واحد ملک ہے جو داعش کے خلاف جنگ کی طاقت اور اس مشن کو مکمل کرنے کی ذمہ داری کا پابند ہے۔

'نیویارک ٹائمز' میں لکھے ایک مضمون میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی شام میں'داعش' اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو شکست دینے کا پابند ہے۔ ان کا یہ مضمون امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن سے ملاقات سے قبل شائع ہوا۔

ادھر وائیٹ ہائوس نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے حوالے سے اپنا موقف نہیں بدلا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شام سے فوج کے انخلاء کی جن شرائط کا جون بولٹن نے ذکر کیا ہے ان پرعمل درآمد میں چند ماہ لگ سکتے ہیں مگر امریکا جلد ہی شام سے اپنی فوج واپس بلائےگا۔

اسرائیل کے دورے کےدوران وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے بات کرتے ہوئے جون بولٹن کا کہنا تھا کہ شام سے امریکی فوج کے انخلا سے قبل ترکی کو کردوں کی تحفظ کی پابندی کی یقینی دہانی کرانا ہوگی۔