.

نیدر لینڈز میں قتل کے دو واقعات میں ایران کا ہاتھ کارفرما تھا: ڈچ وزیر

یورپی یونین ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرے، پارلیمان کو لکھے گئے خط میں مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈچ وزیر خارجہ نے ایران پر نیدر لینڈز میں دو رجیم مخالفین کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین قتل کے ان واقعات پر تہران کے خلاف اضافی پابندیاں عاید کررہی ہے۔

وزیر خارجہ اسٹیف بلاک نے پارلیمان کو ایک خط لکھا ہے اور اس میں انکشاف کیا ہے کہ ڈچ خفیہ سروس کے پاس دو ایرانی نژاد ڈچ شہریوں کے قتل میں ایران کے ملوث ہونے سے متعلق ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔ایک ڈچ شہری کو المرے میں 2015ء اور دوسرے کو ہیگ میں 2017ء میں قتل کیا گیا تھا۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ یہ دونوں افراد ایرانی رجیم کے مخالف تھے۔اس خط پر ڈچ وزیر داخلہ کجسا اولوگرین کے بھی دست خط ہیں۔

ان دونوں وزراء کا کہنا ہے کہ نیدر لینڈز سمجھتا ہے کہ ایران کا یورپی یونین کی سرزمین پر قتل کی وارداتوں کو انجام دینے یا حملوں میں ہاتھ کارفرما ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ یورپی یونین نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

ڈچ پولیس نے اس سے پہلے ان دونوں مقتولین کی شناخت ظاہر کی تھی۔ان میں ایک مقتول کا نام علی معتمد تھا ۔اس کی عمر 56 سال تھی اور اس کو نیدرلینڈز کے وسطی شہر المرے میں 2015ء میں قتل کیا گیا تھا۔دوسرے مقتول کا نام احمد مولا نیسی تھا۔اس کی عمر 52 سال تھی اور اس کو ہیگ میں 2017ء میں قتل کیا گیا تھا۔

گذشتہ سال جون میں نیدر لینڈز نے ایرانی سفارت خانے کے دو ملازمین کو ان دونوں افراد کے قتل کے الزام میں بے دخل کر دیا تھا۔تہران نے تب اپنے دو سفارت کاروں کی بے دخلی پر احتجاج کیا تھا، اس کو ’’ غیر دوستانہ اور تخریبی اقدام‘‘ قرار دیا تھا اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

قبل ازیں ڈینش وزیراعظم لارس لوک راسموسین نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ یورپی یونین نے ایران کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی وزارت اور دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیاں عاید کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ ڈنمارک نے ایران کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کے لیے کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دریں اثناء فرانس نے پیرس کے نزدیک ایک ریلی پر بم حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں دو مشتبہ ایرانی ایجنٹوں کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔