ایران میں امریکی بحریہ کا سابق اہلکار جولائی 2018ء سے زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے امریکی بحریہ کے ایک سابق اہلکار مائیکل آر وائٹ کو گذشتہ سال جولائی سے گرفتار کر رکھا ہے۔ اس امریکی کے خاندان کے مطابق مسٹر مائیکل ایران میں اپنی ایک گرل فرینڈ سے ملنے کے لیے گئے تھے اور پھر وہیں دھر لیے گئے۔

ان کی والدہ جوآن وائٹ نے بدھ کے روز یورو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں تین ہفتے قبل امریکی محکمہ خارجہ سے اپنے بیٹے کی ایرا ن میں گرفتاری کا پتا چلا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ اس مرحلے پر مزید تفصیل جاری نہیں کرنا چاہتی ہیں کیونکہ انھیں اپنے بیٹے کے کیس کی پیچیدگی کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔

البتہ انھوں نے بتایا ہے کہ ان کا بیٹا پہلے بھی ایران میں اپنی گرل فرینڈ ( معشوقہ) سے ملنے کے لیے جاتا رہا تھا لیکن تب کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا اور آخری مرتبہ ہی مسئلہ پیدا ہوا ہے۔

انھوں نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ ان کے بیٹے نے ایران سے دبئی کے راستے 27 جولائی کو واپس آنا تھا لیکن وہ وہاں سے اس تاریخ کو یا بعد میں طیارے پر سوار ہی نہیں ہوا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اب ایران میں سوئس سفارت خانہ مسٹر وائٹ کے معاملے کو دیکھ رہا ہے کیونکہ وہی ایران میں امریکی مفادات کی نگرانی کا ذمے دار ہے۔ایران نے ابھی تک وائٹ کی گرفتاری سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے او ر نہ اس پر الزامات کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔

وائٹ سے قبل تین اور امریکی شہری بھی ایران میں زیر حراست ہیں۔ ان میں دو ایرانی نژاد امریکی شہری ہیں۔ انھیں ایران نے گذشتہ کئی سال سے گرفتار کررکھا ہے جبکہ ایک اور امریکی گذشتہ قریباً ایک عشرے سے ایران میں لاپتا ہے۔

مائیکل وائٹ  کی اپنی ایرانی  محبوبہ (گرل فرینڈ) کے ساتھ  تصویر ۔
مائیکل وائٹ کی اپنی ایرانی محبوبہ (گرل فرینڈ) کے ساتھ تصویر ۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں