سوڈان : خرطوم میں صدر عمر البشیر کے حق میں حکومت کے حامیوں کی پہلی بڑی ریلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں صدر عمر حسن البشیر کے ہزاروں حامیوں نے بدھ کو ان کے حق میں ایک بڑی ریلی نکالی ہے۔ ملک میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے بعد صدر بشیر کے حامیوں کا یہ پہلا عوامی مظاہرہ ہے جبکہ حکومت مخالفین بھی آج دارالحکومت میں اپنی طاقت کے مظاہرے کی تیاری کررہے ہیں۔

خرطوم میں کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔پولیس اور فوج کے سیکڑوں اہلکار بھاری مشینوں کے ساتھ تعینات کیے گئے ہیں اور وہ گاڑیوں پر شہر بھر میں گشت کررہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق خواتین ، بچوں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد بسوں کے ذریعے صدر عمر البشیر کے حق میں ریلی میں شرکت کے لیے دارالحکومت پہنچی ہے۔انھوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سوڈانی صدر کے حق میں نعرے درج تھے۔

سوڈان میں 19 دسمبر کو حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے لیکن اس کے بعد احتجاجی مظاہرین نے صدر عمر البشیر سے استعفے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔سوڈانی صدر نے اتوار کو ایک بیان میں استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی تیاری کریں اور انتخاب جیت کر اقتدار میں آئیں۔

انھوں نے منگل کے روز ایک فوجی اڈے پر فوجیوں کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ہمارے خلاف سازش کرنے والے لوگوں ہی نے آتش گیر مواد سے ہم پر حملے کیے ہیں اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا یا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج اقتدار سنبھال رہی ہے، مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ فوج تو ہمیشہ مادر وطن کی محافظ رہی ہے ۔ انھوں نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی ہے۔انھوں نے ان سیاسی جماعتوں کی مذمت کی ہے جو پہلے حکومت میں شامل تھیں مگر اب مظاہرین کی صفوں میں شامل ہوکر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

سوڈان میں گذشتہ ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں 800 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس دوران میں تشدد کے واقعات میں دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت 19 افراد مارے گئے ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ہلاکتوں کی تعداد 37 بتائی ہے۔

سوڈانی وزیر داخلہ احمد بلال عثمان نے سوموار کو پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے مختلف شہروں میں 19 دسمبر کے بعد سے 381 احتجاجی مظاہرے ہوچکے ہیں ۔ان مظاہروں کے دوران میں 118 عمارتوں کو نذرآتش کیا گیا ہے یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ان میں 18 عمارتیں محکمہ پولیس کی تھیں،مظاہرین نے 194 گاڑیوں کو نذر آتش کیا ہے اور ان میں 15 بین الاقوامی تنظیموں کی تھیں۔ مظاہرین نے صدر بشیر کے زیر قیادت حکمران جماعت نیشنل کانگریس کے متعدد دفاتر کو بھی نذر آتش کردیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے پُرامن انداز میں شروع ہوئے تھے لیکن بعد میں بعض ٹھگ ان میں شامل ہوگئے تھے ۔ان کا اپنا خفیہ ایجنڈا تھا اور انھوں نے لوٹ مار شروع کردی لیکن اب ملک بھر میں صورت حال ’’ پُرامن اور مستحکم‘‘ ہورہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں