قبضے میں لیا گیا تُرک اسلحہ ہلاکتوں کی کارروائیوں میں استعمال ہونا تھا : لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مصراتہ کی بندرگاہ پر پکڑے جانے والے تُرک اسلحے کی کھیپ اس حوالے سے کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی برادری انقرہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی پر حرکت میں نہیں آئے گی اُس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں المسماری نے واضح کیا کہ "الخمس اور مصراتہ کی بندرگاہوں سے قبضے میں لی جانے والی ترک ہتھیاروں کی حالیہ دو کھیپوں سے یہ بات سامنے آ گئی کہ ترکی کی حکومت لیبیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایک نئے منظر نامے پر عمل پیرا ہونے کے درپے ہے۔ یہ منظرنامہ ہلاکتوں کی کارروائیوں پر موقوف ہے کیوں کہ پکڑی جانے والی کھیپ گولہ بارود، ہتھیاروں اور سائلنسروں پر مشتمل ہے جو قتل میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس سے قبل ترکی کی جانب سے دھماکا خیز مواد اور بم بھیجے جا رہے تھے جن کو لیبیا کی فوج نے بنغازی اور درنہ میں دہشت گرد جماعتوں کے قبضے سے برآمد کیا تھا"۔

المسماری نے باور کرایا کہ شدت پسند تحریکوں کی سپورٹ پر مشتمل ترک حکومت کا خطرناک منصوبہ عرب دنیا کے تمام ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔

المسماری نے لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کی جانب سے ایک بار پھر یہ مطالبہ دہرایا کہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ ترکی کی جانب سے لیبیا کے عوام کے خلاف مرتکب جرائم کی تحقیقات کریں اور سلامتی کونسل کی اُس قرار داد کی خلاف ورزی پر ترکی کی مذمت کی جائے جس کے تحت لیبیا کو ہتھیاروں کی فروخت اور وہاں ان کی منتقلی ممنوع ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں