انتونیو گوٹیرس کا الحدیدہ میں 75 مبصرین کی تعیناتی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ پر چھ ماہ کے لیے 75 مبصرین کی تعیناتی کی منظوری دے تا کہ فائر بندی اور جنگ کے دونوں فریقوں کی فورسز کی نئی صف بندی کی نگرانی کی جا سکے۔ یہ مطالبہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس کی جانب سے بدھ کے روز سلامتی کونسل میں یمن کی صورت حال سے متعلق رپورٹ پیش کیے سے قبل سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ماہ سویڈن میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد ایران نواز حوثی ملیشیا اور یمنی حکومت الحدیدہ کے حوالے سے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے تھے۔ اس کے تحت تجارتی سامان اور انسانی امداد کا بڑا حصہ یمن میں داخل کیا جانا تھا تا کہ کروڑوں یمنیوں کے اندر دوبارہ زندگی کی لہر دوڑ سکے۔

سلامتی کونسل کو انتونیو گوٹیرس کے حالیہ مطالبے کے حوالے سے 20 جنوری تک کوئی قدم اٹھانا ہو گا۔ اس روز گوٹیرس کی جانب سے اُس ابتدائی نگرانی کی ٹیم کو سونپے گئے اختیارات کی مدت کے 30 روز پورے ہو رہے ہیں جس کی سربراہی ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے جنرل پیٹرک کمائرٹ کے ہاتھ میں ہے۔

انتونیو گوٹیرس کی جانب سے 31 دسمبر کو سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی تجویز میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے 75 مبصرین کی مجوزہ ٹیم کو سویڈن معاہدے پر عمل درامد کی نگرانی کے واسطے "ہلکا وجود" قرار دیا تھا۔ گوٹیرس کے مطابق "اقوام متحدہ کی ٹیم کے افراد کے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مناسب وسائل اور اثاثوں کی بھی ضروت ہو گی۔ ان میں بکتربند گاڑیاں، کمیونی کیشن کا انفرا اسٹرکچر، طیارے اور مناسب طبی سپورٹ شامل ہے"۔

گوٹیرس نے مزید کہا کہ زیادہ تعداد پر مشتمل نگرانی مشن یمن میں کمزور سیاسی عمل کی معاونت میں کردار ادا کریں گے۔

ادھر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس اور اقوام متحدہ میں امدادی امور کے رابطہ کار مارک لوکوک بدھ کے روز سلامتی کونسل میں اپنے بیانات پیش کریں گے"۔

گریفتھس نے منگل کے روز یمنی صدر سے ملاقات میں زور دے کر کہا تھا کہ عالمی برادری الحدیدہ کی صورت حال اور سویڈن معاہدے کی شقوں پر عمل درامد کے اقدامات کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے۔ گریفتھ نے باور کرایا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی کوششوں اور سویڈن معاہدے کی شقوں کے نفاذ سے متعلق زمینی ٹیم کی مدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے آئینی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تمام رعائتوں کا جواب ہٹ دھرمی اور تمام سمجھوتوں اور مفاہمت سے بغاوت کی صورت میں دیا ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں