.

افغانستان کے لیے امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد ایشیائی ملکوں کے دورے پر روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایچلی زلمے خلیل زاد افغانستان میں دیر قیام امن کے لیے بات چیت کی خاطر ایشیائی ممالک کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ یکم دسمبر کو زلمے خلیل زاد نے طالبان کے نمائندوں سے بات چیت کی تھی۔ منگل کو وہ چین، پاکستان،افغانستان اور بھارت کے دورے پر روانہ ہوئے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ان کا یہ دورہ 21 جون تک جاری رہے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا زلمے خلیل زاد تحریک طالبان کی قیادت اور نمائندوں سے بات چیت کریں گے یا نہیں۔ وزارت خارجہ کے بیان میں صرف اتنا کہاگیا ہے کہ خلیل زاد افغان حکومت کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔

ایک بیان میں افغانستان کے لیے امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ 17 سال سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں موجود افغانستان کے تنازع کا واحد حل تمام فریقین کا مذاکرات کی میز پربیٹھنا اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران سفارتی مساعی نے طالبان کو افغان حکومت اور امریکی مندوبین کے ساتھ مذاکرات پرمجبور کیا گیا۔

طالبان نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ افغان حکومت سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کے خیال میں افغان حکونت امریکا کے ہاتھ میں کھلونا ہے جس کی اپنی کوئی حیثیت اور اتھارٹی نہیں۔

افغانستان کے انتظامی صدر عبداللہ عبداللہ نے بدھ کے روزاک بیان میں کہا کہ ہم افغانستان میں امن مساعی کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر کسی قسم کی سفارتی کوشش افغانستان حکومت کے تحت ہی ہونی چاہیے۔

بعض سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں میں تیزی اس وقت آئی جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں‌موجود اپنی آدھی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا۔ طالبان امریکا سے اپنی فوج افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں جب کہ افغان حکومت کو خدشہ ہےکہ اگرا مریکا نے فوج نکالی تو ملک ایک بار پھر طالبان کے ہاتھ میں‌ جا سکتا ہے۔