.

امریکی انخلا میں تاخیر کی صورت میں ترکی کی شمالی شام پر حملے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی انخلا میں تاخیر ہوئی تو ترکی شمالی شام میں حملہ کر دے گا۔

اوگلو نے جمعرات کے روز "NTV" نیٹ ورک کو انٹرویو میں کہا کہ "اگر غیر حقیقی نوعیت کے واہیات اعذار کی بنیاد پر (انخلا میں) تاخیر ہوئی مثلا یہ کہ ترکی کُردوں کو ہلاک کر دے گا ،،، تو پھر ہم اپنے فیصلے پر عمل درامد کر گزریں گے" اور شمالی شام میں آپریشن شروع کر دیں گے۔

واضح رہے اوگلو کے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو نے تین جنوری کو اپنے بیان میں باور کرایا تھا کہ واشنگٹن اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد "ترک شام میں کُردوں کو قتل نہیں کریں گے"۔

ترکی اور امریکا کے درمیان اختلافات کا تعلق کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس سے ہے۔ انقرہ اسے ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتی ہے جبکہ واشنگٹن داعش تنظیم کے خلاف پروٹیکشن یونٹس کے بڑے کردار کے سبب اس کا دفاع کرتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز شدت کے ساتھ امریکی موقف کو مسترد کر دیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکی فورسز کے انخلا پر شمالی شام میں کرد فورسز کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

ادھر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے انقرہ میں ایک بیان میں کہا کہ شام سے امریکی انخلا سے قبل شرائط رکھی جانی چاہئیں ،،، ان میں کرد حلیفوں کی سلامتی کی ضمانت شامل ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا کا انخلا عمل میں آئے یا نہ آئے ، ترکی ہر صورت پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا۔

اوگلو کے مطابق مناسب شرائط ہونے کی صورت میں ترکی مستقبل میں امریکا سے پیٹریاٹ میزائل خرید سکتا ہے لیکن اگر واشنگٹن نے انقرہ کو مجبور کیا کہ وہ روس سے S-400 میزائل سسٹم کی خریداری نہ کرے تو پھر امریکا کے ساتھ سودا ناممکن ہو جائے گا۔ اوگلو نے واضح کیا کہ ان کا ملک روس سے مذکورہ دفاعی سسٹم خریدنے کے معاملے پر امریکی ڈکٹیشن ہر گز قبول نہیں کرے گا۔