.

ترکی میں روسی سفیر کے قتل کے مقدمہ کا آغاز ہو گیا

فتح اللہ گولن سمیت 28 مشتبہ افراد کے خلاف استنبول عدالت میں مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں قتل کئے جانے والے روسی سفیر آندرے کارلوف کے قتل میں ملوث 28 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ مشتبہ افراد میں نمایاں نام امریکا میں خو د ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذارنے والے اسلامی اسکالر فتح اللہ گولن کا بھی ہے۔ انقرہ فتح اللہ گولن کو رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی خاطر کی جانے والی ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔

انیس دسمبر 2016ء کو ہونے والے اس واقعے میں ملوث روسی سفیر کے قاتل مروت میٹ ملٹینٹس کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک پولیس اہلکار تھا۔وہ ڈیوٹی پر نہیں تھا اور وہ پولیس کا شناختی کارڈ دکھا کر انقرہ کے ثقافتی مرکز کے ہال میں داخل ہوا تھا جبکہ تقریب میں موجود ترک صحافیوں کا خیال تھا کہ وہ سفیر کے ذاتی محافظوں میں سے ایک تھا۔ اس نے سوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔ ثقافتی مرکز میں ہونے والی اس نمائش کا اہتمام روسی سفارت خانے ہی نے کیا تھا۔

قاتل پولیس اہلکار نے سفیر کو پشت سے دو گولیاں ماری تھیں۔ اس کے بعد چلاتے ہوئے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا مشہور زمانہ جملہ بولا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''جب تک ہمیں ہمارے ملکوں میں سکیورٹی نہیں ملتی اور ہم امن سے نہیں رہ پاتے تو آپ کو خواب میں بھی سکیورٹی نہیں ملے گی''۔ اس کو بعد میں پولیس نے گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔ اس قاتل اور پولیس اہلکاروں نے ہال میں پندرہ سے بیس گولیاں چلائی تھیں۔

تحقیقات کے بعد ترک استغاثہ نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے اس کے مطابق سفیر کارلوف کے قتل میں گولن نیٹ ورک ملوث تھا کیونکہ ایردوآن حکومت کی مخالفت کی وجہ سے اس اقدام کو بنیاد بنا کر فتح اللہ گولن ترکی اور روس کے تعلقات کشیدہ کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کا فائدہ اٹھا کر حکومت کو گرایا جا سکے۔

عمر قید کی سزا

ترک استغاثہ نے قتل میں ملوث کئے جانے والے سولہ افراد، بشمول فتح اللہ گولن، پر ملکی دستوری سسٹم ڈی ریل کرنے، دہشت گردی کے فروغ کے لئے قتل مقاتلے اور دہشت گرد تنظیم کی رکنیت اخیتار کرنے جیسے الزامات کی بنا پر فرد جرم عائد کی ہے۔

استتغاثہ نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ نامزد افراد میں دو کو عمر قید جبکہ بارہ دوسرے افراد کو دہشت گرد تنظیم سے تعلق کی بنا پر 15 برس قید کی سزا سنائیں۔

دس ملزمان کا غیر موجودگی میں ٹرائل

فتح اللہ گولن 1999ء سے امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ انھوں نے ایردوآن حکومت کا تختہ الٹنے اور روسی سفیر کے قتل میں ملوث ہونے جیسے الزامات کی تردید کی ہے۔

ترک استغاثہ نے جن افراد پر فرد جرم عائد کی ہے ان میں پولیس کے سابقہ اہلکار، فوٹو گرافی نمائش کے منتظمین اور امریکا ہی میں مقیم ترک انٹلیجنس کا سابقہ ایجنٹ اور ترک اخباری صحافی شامل ہیں۔

استغاثہ نے جن افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش کی تھی ان میں دس ترکی میں موجود نہیں۔ ان کے خلاف مقدمہ غیر موجودگی میں چلایا جائے گا۔ ملزموں میں گولن کے زیر انتظام چلنے والی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر علی ٹیکلان بھی شامل ہیں۔ ٹیکلان ان دنوں شمالی امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک یونیورسٹی کے سربراہ ہیں۔

ویڈیو کانفرنس ٹرائل

گذشتہ روز ہونے والی کارروائی کے دوران 14 ملزمان پیش ہوئے۔ مختلف جیلوں میں قید چار افراد کا ٹرائل بذریعہ ویڈیو کانفرنس کیا گیا۔

چھ ملزمان، جن میں قاتل پولیس اہلکار کے پولیس اکیڈیمی میں ہم جماعت افسرشامل تھے، نے عدالت کے سامنے اس امر سے انکار کیا کہ ان کا تعلق کسی بھی طرح سے فتح اللہ گولن سے رہا ہے۔

گذشتہ برس اپریل میں روسی سفیر کے قتل میں ماخوذ فتح اللہ گولن سمیت سات دوسرے افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔ ترکی نے امریکا سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا کئی بار مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔