.

جرمن ریاست نے الاخوان سے تعلق پر ترک اسلامی یونین کی نگرانی شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی ریاست باویریا کے وزیر داخلہ جوآشم ہرمن نے کہا ہے کہ ترکی کی اسلامی یونین کو آئینی تحفظ اتھارٹی کے تحت ہوم لینڈ انٹیلی جنس ایجنسی کے کنٹرول میں دیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ جو چیز بالخصوص بہت چوکنا کر دینے والی ہے ، وہ یہ کہ اس نے حال ہی میں الاخوان المسلمون کے نمایندوں کو کولون میں منعقدہ ایک سیمی نار میں شرکت کے لیے دعوت نامے بھیجے تھے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس گروپ نے ایسا موقف اختیار کیا ہے جو جرمنی کے آئین کے تقاضوں سے کوئی لگا نہیں کھاتا ہے۔اس لیے ریاست کو اس معاملے میں ہوشیار رہنا چاہیے‘‘۔

باویریا کی کرسچین سوشل پارٹی کے یورپی پارلیمان کے ایک معروف رکن نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے یورپ بھر میں ترک جڑیں رکھنے والے تمام افراد کو اپنے زیر اثر لانے کے لیے کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

گرین پارٹی کے ایک رکن جیم اوزمیر نے بھی کولون میں منعقدہ سیمی نار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ایردوآن نے یورپ میں اپنے ہاتھ پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

جرمن حکومت کے کمشنر برائے مذہبی آزادی مارکوس گروبل نے بھی ملک میں مقیم مسلمانوں پر غیر ملکی سیاسی اثرورسوخ کو مسترد کردیا ہے۔ترک اسلامی یونین کا دفتر کولون میں قائم ہے اور یہ انقرہ میں ترکی کے مذہبی امور کے دفتر کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔

اس ریاست کے بعض مقامی اخبارات نے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ جرمنی میں ترکی کی بعض مساجد کے ائمہ سے ترک قونصل جنرل نے یہ کہا ہے کہ وہ امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے علامہ فتح اللہ گولن کے پیروکار نمازیوں کے بارے میں اطلاع دیں۔

گذشتہ برسوں کے دوران میں ترکی کی اس یونین کو جرمن ریاست کے مختلف فنڈز میں سے مسلم نوجوانوں کو راسخ العقیدگی کا شکار ہونے سے بچانے کے منصوبے کے لیے رقوم مہیا کی جاتی رہی ہیں۔تاہم حال ہی میں جرمنی کی وفاقی حکومت نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس نے اسلامی یونین کے امداد کے میکانزم پر نظر ثانی کی ہے اور اس کو 2017ء کے بعد سے کوئی امداد مہیا نہیں کی ہے۔