.

سوڈانی شہر ام درمان میں احتجاجی مظاہرہ، 3 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سونا" کے مطابق ام درمان شہر میں مظاہروں کے دوران 3 احتجاج مظاہرین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 8 دوسرے زخمی ہو گئے۔

ایجنسی نے بتایا کہ شہر میں غیر قانونی نوعیت کی ہنگامہ آرائی اور مجمع کا اکٹھا ہونا دیکھنے میں آیا جس کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

سوڈان میں ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی کے مطابق زخمیوں میں بعض افراد ایسے ہیں جن کو براہ راست سینے، پیٹ اور ٹانگوں میں گولیاں لگیں"۔

سوڈان میں قیمتوں میں اضافے، بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قلت اور کیش لکیوڈٹی جیسے بحران نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک بھر میں عوام کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہروں کےآغاز کے بعد سے اب تک تقریبا 20 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ ہمارے اندازے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنان نے صدر عمر البشیر اور ان کے ماتحت سکیورٹی اداروں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کا بلا دریغ استعمال کر رہے ہیں۔