.

یمنی فوج کی پریڈ پر حوثیوں کا ڈرون حملہ ، 6 فوجی ہلاک ، 20 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں سویڈن میں طے شدہ جنگ بندی سمجھوتے کو سبوتاژ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے جمعرات کو صوبہ لحج میں واقع العند کے فوجی اڈے پر یمن کی قومی فوج کی ایک پریڈ پر ڈرون حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں چھے فوجی ہلاک اور متعدد اعلیٰ افسروں اور عہدے داروں سمیت بیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ اس ڈرون حملے میں صوبہ لحج کے گورنر ، ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف ، ایک مقامی انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ ، ملٹری پولیس کے کمانڈر اور یمنی فوج کے فورتھ ریجن میں کمانڈر سمیت متعدد صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

الحدث نیوز چینل کے نمایندے نے الگ سے اطلاع دی ہے کہ ڈرون پر ایرانی ساختہ بم لد ا ہوا تھا اور وہ پریڈ کے لیے سجائے گئے پوڈیم پر گر کر دھماکے سے پھٹ گیا۔اس وقت وہاں وزارتِ دفاع کے اعلیٰ عہدے دار وموجود تھے اور وہ پریڈ دیکھ رہے تھے۔

اس نمایندے نے مزید اطلاع دی ہے کہ زخمیوں کو ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے جنوبی شہر عدن کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے اس ڈرون حملے میں فوج کے دو سینیر افسروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ یمنی فوج ماضی میں العند کے فوجی اڈے سے لحج میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف حملے کرتی رہی ہے۔

دریں اثناء یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے حوثی ملیشیا کے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ایک ویڈیو کی صورت میں دستاویز ی ثبوت جاری کیے ہیں۔ بالخصوص حوثیوں کے گنجان آباد شہری علاقوں اور شہریوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ثبوت فراہم کیے ہیں۔

اس فوٹیج میں صوبہ صعدہ کے ضلع راضح میں ایک اسلحہ ڈپو کو دکھایا گیا ہے اور حوثیوں کو ایک گنجان آباد علاقے میں ایک ٹرک پر اسلحہ لادتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔