ایران اور یورپ کے درمیان جوہری سمجھوتہ ٹوٹنے کی متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ملکوں اور ایران کےدرمیان تہران کے جوہری پروگرام پرطےپایا سمجھوتہ ٹوٹنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے استعفے کے افواہیں بھی گردش کررہی ہیں۔

ایران کے ایک کثیرالاشاعت فارسی اخبار"مستقل"نے جمعرات کے روز اپنی رپورٹ میں‌ قومی سلامتی کمیٹی کے ایک با خبر ذریعے کے حوالے سے بتایا سنہ 2015ء کے دوران مغرب اور تہران کےدرمیان جس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے ایران اس سے نکلنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ برس امریکا ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے سے علاحدہ ہوگیا تھا جس پر ایران اور یورپی ملکوں نے سخت تنقید کی تھی۔

ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ امریکا اس معاہدے سے الگ ہوگیا اور اس میں شامل بعض دوسرے ممالک بھی اس کی شرائط کی پاسداری نہیں کرسکے ہیں۔ یورپی ممالک کی طرف سے بھی امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کی حمایت کی جانے لگی ہے۔ اس لیے ایران اپنے جوہری مفادات کے تحفظ اورملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں اس سمجھوتے سے الگ ہو رہا ہے۔

اخباری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی جوہری توانائی ایجنسی نے سمجھوتے سے قبل والی پوزیشن پر واپس جانے اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے دوبارہ کام شروع کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

ادھر حکومت کی مقرب ویب سائیٹ‌"انتخاب" نے جوہری معاہدے سے علاحدگی اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے استعفے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ویب سائیٹ نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ جواد ظریف کےوزارت خارجہ کے عہدے سے استعفے اور ایران کے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کی تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور دشمن کی طرف سے منفی پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ ایران میں ان متضاد اطلاعات پر سرکاری سطح پر تا حال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں