.

فرانس : زرد صدری تحریک کے مسلسل نویں ہفتے احتجاجی مظاہرے، ہزاروں افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس اور دوسرے شہروں میں مسلسل نویں ہفتے کے روز زرد صدری تحریک کے زیر اہتمام حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔حکام نے پولیس اور مظاہرین کے درمیان تشدد کے ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں۔

پیرس کے مشرقی علاقے میں وزارت خزانہ کی عمارت کے نزدیک سے چند ایک ہزار افراد نے مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے کے لگ بھگ احتجاجی مظاہرے کا آغاز کیا تھا اور وہ شہر کی شاہراہوں پر پُرامن انداز میں چلتے ہوئے چیمس ایلزی ایونیو کی جانب جارہے تھے۔

پیرس پولیس نے کہا ہے کہ آج مظاہرے کے آغاز سے قبل 24 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کی گرفتاری ممکنہ طور پر ہتھیار رکھنے کے الزام میں عمل میں آئی ہے۔دریں اثناء زرد صدری تحریک کے مظاہرین بورجیز شہر میں احتجاج کے لیے جمع ہورہے تھے۔ اس شہر میں آن لائن گروپ گذشتہ کئی ہفتوں سے مظاہروں کے لیے مہم چلا رہے تھے۔

فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں ان زرد صدری والوں کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے 80 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔وزیر داخلہ کرسٹوفی کیسٹینر نے بلوائیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ مجموعی طور پر پُرامن مظاہرے اب سخت گیری کا رُخ اختیار کررہے ہیں۔

کرسمس کے موقع پر چھٹیوں کے دوران میں حکومت مخالف ان احتجاجی مظاہروں کے شرکاء کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن اب پھر ان کی تعداد میں اضافہ شروع ہو گیا ہے اور صدر عمانو ایل ماکروں کی جانب سے متعدد اقتصادی اصلاحات اور ٹیکسوں میں اربوں یورو کی چھوٹ کے اعلانات کے باوجود اس احتجاجی تحریک کی شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہورہی ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران میں زرد صدری تحریک کے زیر اہتمام مظاہروں نے تشدد کا رُخ اختیار کر لیا تھا اور مظاہرین نے دکانوں اور خریداری مراکز کی کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے توڑ دیے تھے ا ور وہاں لوٹ مار بھی کی تھی۔

فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے دسمبر کے اوائل میں ’’زرد صدری تحریک‘‘ کے مظاہرین کے لیے بعض رعایتوں کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ایندھن کی بڑھائی گئی مجوزہ قیمت چھے ماہ کے لیے معطل کردی تھی۔ فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے ایندھن پر محاصل کی شرح میں اضافے کو چھے ماہ کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے طویل مذاکرات کے بعد کیا تھا لیکن مظاہرین ان کے اعلانات سے مطمئن نہیں ہوئے اور وہ فرانس کی معیشت اور سیاست میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانسیسی صدر نے گذشتہ سال کے اوائل میں اقتصادی اصلاحات کے نام پر ایندھن پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کردیا تھا جس کے خلاف ہزاروں شہریوں نے گذشتہ آٹھ ہفتوں کے دوران میں ’’زرد صدریاں‘‘ پہن کر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ۔ فرانسیسی حکام کے مطابق پانچ جنوری کو ملک بھر میں 50 ہزار سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

’’زردصدری تحریک‘‘ 17 نومبر کو پیٹرول پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف شروع ہوئی تھی اور ابتدا میں ڈرائیوروں نے صدائے احتجاج بلند کی تھی لیکن اب اس تحریک کے کارکنان فرانس میں مہنگے رہن سہن کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں اور وہ لوگوں کا معیار ِزندگی بہتر بنانے اور اجرتوں میں اضافے کے مطالبات کررہے ہیں ۔