الجزائر میں 'کلاشنکوف' کی یادگار نصب کرنے پر نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی ملک الجزائر کے تیونس کی سرحد کے قریب ایک قصبے میں روسی ساختہ'کلاشنکوف' کی یادگار نصب کرنے پر عوامی اور ابلاغی حلقوں میں حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق الجزائر کے دارالحکومت سے مشرق میں 700 کلو میٹر دور اور تیونس کی سرحد سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر مزرعہ کے مقام پر یہ عجیب یادگار نصب کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں‌ نے اسے 'تشدد کی علامت' قرار دیتے ہوئے مزرعہ بلدیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بلدیہ کے چیئرمین نے چار روز قبل کلاشنکوف کی یادگار نصب کی تھی جس کے بعد یہ مقامی اخبارات اور عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

شہریوں‌نے کلاشنکوف کی یادگار سوشل میڈیا پر شیئرکی ہے اور حکومت کو سخت تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ الجزائر کو کلاشنکوف کلچر کی نہیں بلکہ امن کا پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے۔

اخبار"الشروق" کے مطابق کلاشنکوف کی یادگار کی تنصیب اس لیے بھی عجیب ہے کہ یہ کسی خاص قومی موقع پر نہیں کی گئی۔ اخبار کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کلاشنکوف کی یادگار دیکھنے والا ہر شخص یہ کہتا ہے کہ اس سے بچوں میں تشدد کے جذبات پیدا ہوں‌گے۔ یہ امن اور امید کی نہیں بلکہ تشدد اور خون خرابے کی علامت ہے۔

دوسری جانب مزرعہ قصبے کے میئراحمد بوزیدہ بن علی نے کلاشنکوف یادگار کی تنصیب کا دفاع کیا ہےان کا کہناہےکہ کلاشنکوف فرانسیسی قبضے کے خلاف الجزائری فوج کی قربانیوں اور ان کی جدو جہد کی علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کلاشنکوف لوہے کے ٹکڑوں اور پرانے زرعی آلات کی مدد سے تیار کی گئی ہے جس کی تیاری میں 500 یورو کی لاگت آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں