سابق قطری وزیراعظم اپنے تازہ انٹرویو میں گریبان میں بھی جھانک لیتے: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کے تازہ بیانات کی مذمت کردی ہے او ر کہا ہے کہ یہ کم زور دلائل کی عکاسی کرتے ہیں اور ان میں خود تنقیدی اور جائزے کا فقدان پایا جاتا ہے۔

شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کا ہفتے کے روز روسی ٹیلی ویژن چینل رشیا ٹوڈے ( آر ٹی ) نے ایک انٹرویو نشر کیا تھا۔اس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ’’ قطر اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان بحران اب تک اس لیے جاری ہے کیونکہ جنھوں نے اس بحران کو شروع کیا تھا ، وہ سیاست کو سمجھتے نہیں ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ امریکی مصالحت کار کی خلیج بحران کو طے کرانے میں ناکامی کی اصل وجہ واشنگٹن میں مفادات کا ٹکراؤ اور اس بحران کو شروع کرنے والوں کو غیر لچک دار رویہ ہے۔

شیخ حمد بن جاسم نے امریکا کے اس بحران کو حل کرانے کے لیے مقرر کردہ خصوصی ایلچی سابق جنرل انتھونی زینی کے استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا : ’’ میرے خیال میں انتھونی زینی نے تجاویز پیش کی تھیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیکریٹری خارجہ بغل میں فائل دابے پھر رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر بھی یہی کچھ کررہے ہیں۔ان کے علاوہ بہت سی پارٹیاں ہیں جنھیں اس معاملے میں کسی نہ کسی وجہ سے دلچسپی ہے‘‘۔

انور قرقاش نے اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ’’ شیخ حمد بن جاسم کے رشیا ٹوڈے سے انٹرویو میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔یہ شیخ حمد کے مشہور عالم عملی اقدام سے کوئی لگا نہیں کھاتا ہے۔دراصل وہی قطر کے موجودہ مخمصے کی ذمے دار پالیسی کے خالق تھے۔انھوں نے ہی ایک مبہم نظری بیانیہ وضع کیا تھا۔ان کے دلائل اور بیانیہ بالکل کم زور ہے کیونکہ ان میں خود تنقیدی اور جائزے کا فقدان پایا جاتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں