قطر بحران کے حل کے لیے فوری طور پر کسی پیش رفت کا امکان نہیں : امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ قطر کے چار ہمسایہ عرب خلیجی ممالک کا بائیکاٹ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا ہے لیکن مستقبل قریب میں اس تنازع کے حل کے لیے کسی نمایاں پیش رفت کا امکان بھی نظر نہیں آرہا ہے۔

مائیک پومپیو نے اتوار کو قطری دارالحکومت دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا :’’ جب ہم مل جل کر کام کریں تو ہم زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔ ایک ہی جیسے مقاصد کے حامل ممالک کے درمیان تنازعات کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتے ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے قطر میں واقع العبید ائیربیس کی توسیع اور تزئین نو کے لیے قطر ی حکام کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے ہیں۔العبید امریکی فوج کے زیر استعمال ہے اور وہاں قریباً دس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

اس موقع پر ان کے قطری ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے بھی گفتگو کی لیکن دونوں وزراء نے قطر اور چار خلیجی عرب ممالک کے درمیان جاری سفارتی بحران کے جلد خاتمے کے حوالے سے فوری طور پر کسی پیش رفت کا اشارہ نہیں دیا ہے۔

قطر نے سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے جون 2017ء میں بائیکاٹ کے بعد ایران سے قریبی تعلقات استوار کر لیے تھے اور ان کے دو طرفہ روابطہ میں وقت گزرنے کے ساتھ بہتری آئی ہے۔ مذکورہ چار ممالک ایران کو اپنا ایک حریف خیال کرتے ہیں اور وہ خطے میں اس کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ان ممالک نے قطر اور ایران پر سخت گیر جنگجو اور دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی کے الزامات عاید کیے تھے ۔

اسی ماہ کے اوائل میں امریکا کے قطر بحران کے حل کے لیے مقرر کردہ خصوصی ایلچی اور سنٹرل کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل انتھونی زینی نے اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کا اعلان کردیا تھا۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتھونی زینی نے بحران کے فریقوں کے کٹھورپن اور غیر لچک دار رویّے کے پیش نظر خصوصی ایلچی کی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسٹر انتھونی زینی کی رخصتی کسی بھی طرح امریکا کی مشرقِ اوسط میں کوششوں میں کسی تبدیلی کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔یہ تبدیلی کا وقت تھا۔انھوں ( جنرل زینی ) نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن امریکا کی خطے میں پالیسی اور عزم غیر متبدل رہے گا‘‘۔

وہ قطر کے بعد اپنے غیرملکی دورے کے اگلے مرحلے میں سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ اس سے پہلے انھوں نے ابو ظبی ، منامہ، عمان ، قاہرہ ، بغداد اور عراقی کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کا دورہ کیا تھا۔واشنگٹن نے خطے میں ایران اور انتہا پسند گروپوں سے نمٹنے کے لیے وزیر خارجہ کے اس دورے کو اہم قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں