.

آپ سے باہمی شراکت داری کے احترام کی توقع رکھتے ہیں : ترکی کا ٹرمپ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایوان صدارت کے ترجمان ابراہیم قالن نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکا دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا احترام کرے گا۔ یہ موقف امریکی صدر کے اس انتباہ کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی انخلا کے بعد شام میں کردوں پر حملے کی صورت میں ترکی کی معیشت کو المیے سے دوچار کر دیا جائے گا۔

قالن نے پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "محترم ڈونلڈ ٹرمپ یہ ایک فاش غلطی ہے کہ دہش گرد تنظیموں سے متعلق امریکی فہرست میں شامل کردستان ورکرز پارٹی اور شام میں اس کی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو دیگر کردوں کے برابر سمجھا جائے۔ دہشت گرد کبھی بھی آپ کے شراک دار اور حلیف نہیں ہو سکے۔ ترکی اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ امریکا ہمارے درمیان قائم تزویراتی شراکت داری کا احترام کرے گا۔ انقرہ یہ نہیں چاہتا کہ دہشت گرد پروپیگنڈا اس پر اثر انداز ہو"۔

اس سے قبل امریکی صدر نے اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا تھا "اگر ترکی نے کردوں پر حملہ کیا تو ہم اس کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں گے۔ ہم 20 میل کے عرض میں سیف زون قائم کریں گے۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کردوں کی جانب سے ترکی کو اشتعال دلایا جائے"۔

واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان اختلافات کا تعلق کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے تحفظ سے متعلق ہے۔ انقرہ اسے ایک "دہشت گرد" فورس شمار کرتا ہے جب کہ واشنگٹن دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں اہم کردار کے سبب کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا دفاع کرتا ہے۔