.

حلیف ایک دوسرے کے ساتھ ٹویٹر کے ذریعے رابطہ نہیں رکھتے : اوگلو کا ٹرمپ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ تزویراتی حلیف سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ نہیں رکھتے۔

اوگلو نے ترکی کی معیشت کی دھمکی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ شام کے بارے میں ٹرمپ کی ٹویٹ اندرونی پالیسی سے متعلق ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ انقرہ شام میں سیف زون کے قیام کا مخالف نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ترکی کو اقتصادی حوالے سے دھمکی دے کر کسی چیز کو بھی یقینی نہیں بنایا جا سکتا"۔

اوگلو کا کہنا تھا کہ "ہم امن برقرار رکھنے اور شام کے صوبے ادلب میں خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی انتہائی کوششیں کر رہے ہیں"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد شام میں کردوں پر حملہ کیا تو ترکی کی معیشت کو اقتصادی المیے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے کرد فورسز پر زور دیا کہ وہ انقرہ کو "اشتعال" نہ دلائیں۔

اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ "اگر ترکی نے کردوں پر حملہ کیا تو ہم اس کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں گے۔ ہم 20 میل کے عرض میں سیف زون قائم کریں گے۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کردوں کی جانب سے ترکی کو اشتعال دلایا جائے"۔