.

خلیج تعاون کونسل کا اتحاد ہمارے تزویراتی اتحاد کے لیے ضروری ہے: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے قطر اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ تنازع بہت طول پکڑ گیا ہے۔'ان کا کہنا ہے کہ خلیج تعاوج کونسل کا متحد ہونا ہمارے علاقائی تزویراتی اتحاد نے کے لیے ناگزیر ہے۔

مائیک پومیو ان دنوں مشرق وسطی کے دورے پر ہیں اور اتوار کو قطر کے دارالحکومت دوحا پہنچیں ہیں جہاں ان کی ملاقات قطر کے ولی عہد شہزاد محمد بن زید سے بھی متوقع ہے۔

خطے کے اپنے دورے کے دوران مائیک پومپیو نے کہا کہ وہ اور صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ خیلجی ممالک میں تنازع کافی طول پکڑ گیا ہے اور اس کا حل کیا جانا سب کے باہمی مفاد میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس تنازع کے جاری رہنے کی وجہ سے خطے میں دشمنوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور باہمی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہمارے ملک اہم کام کرتے ہیں اور ہمارے سامنےاہم کام ہیں جنھیں ہمیں مشترکہ طور پر جاری رکھنا ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ تمام فریقین باہمی تعاون کی افادیت پر غور کریں اور وہ اقدامات اٹھائیں جو ان کی صفوں میں اتحاد کے لیے ضروری ہیں۔'

امریکی وزیر خارجہ نے جمعرات کو قاہرہ میں کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پرانی دشمنیوں کو خطے کے وسیع تر مفاد میں ختم کر دیا جائے۔

سعودی عرب اور اس کی خلیج میں اتحادی ریاستیں محتدہ عرب امارات اور بحرین کے علاوہ مصر نے جون سنہ 2017 میں قطر سے اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کر لیےتھے۔

سعودی عرب کا قطر پر الزام ہے کہ وہ مشرقی وسطیٰ میں دہشت گردوں اور ایران کی حمایت کر رہا ہے۔

قطر اپنے خلاف لگائے جانے والے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

سعودی عرب نے قطر سے اپنے تعلقات بحال کرنے کے لیے پندرہ شرائط بھی قطر کے سامنے رکھی تھیں جنھیں قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل ہونے والی جغرفیائی طور پر اس چھوٹی سے خیلجی ریاست نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

ان پندرہ شرائط میں قطر کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بند کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔

امریکی صدر اپنے دورے کے آخری حصے میں سعودی عرب جائیں گے جہاں ان کی ملاقات سعودی ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان سے متوقع ہے اور دنیا بھر کی نظریں اس ملاقات پر لگی ہوئی ہیں۔

قطر امریکا کا ایک اتحادی ملک ہے اور اس کے لیے اس تنازع کو حل کرانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس خطے میں سٹریٹجک الائسن آف دی مڈل ایسٹ کے نام سے نیٹو کی طرز پر دفاعی اتحاد بنانے کے منصوبوں کو عملی جامعہ پہنایا جا سکے۔ اس فوجی اتحاد میں خیلجی ریاستوں کے علاوہ مصر اور اردن کو بھی شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔