.

سوڈان : عوامی احتجاج اور مظاہرے جامع ملک گیر ہڑتال کی جانب گامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں پیشہ وارانہ افراد کی انجمن Sudanese Professionals Association اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک جامع ہڑتال شروع کرنے اور احتجاجات کا سلسلہ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے احتجاج کنندگان پر ہنگامہ آرائی اور خرطوم بحری شہر میں ایک ہسپتال پر دھاوے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

اتوار کے روز سکیورٹی فورسز نے خرطوم بحری میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین اپنے نعروں میں آزادی، امن اور انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ملک کے وسطی علاقے مدنی ، دارفور کے دو علاقوں الفاشر اور نیالا، شمال میں امری اور مشرق میں الفاؤ میں بھی احتجاجات کے پھوٹ پڑنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

سوڈانی سیاسی جماعتوں اور انجمنوں نے ایک بیان میں زور دیا ہے کہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے تا کہ صدر عمر حسن البشیر کی سبک دوشی کے واسطے دباؤ ڈالا جا سکے۔

سوڈان میں اکیڈمک اور سیاسی شخصیات کے علاوہ دانش وروں اور قومی شخصیات نے بھی ایک بار پھر ملک میں امن اور اصلاحات کے ساتھ ساتھ موجودہ بحرانی صورت حال کی درستی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوڈان میں حقائق تلاش کرنے والی حکومتی کمیٹی نے ہفتے کی شب اعلان کیا تھا کہ 19 دسمبر سے جاری ملک گیر مظاہروں میں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 24 ہو چکی ہے۔

حالیہ احتجاجی سلسلے کا آغاز ملک میں روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافے اور ایندھن کی قیمتوں کو بڑھانے کے خلاف مظاہروں کی صورت میں ہوا تھا۔