.

شام کے کُردوں پر حملہ کیا تو ترکی کی معیشت تباہ کر دیں گے : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد شام میں کردوں پر حملہ کیا تو ترکی کی معیشت کو اقتصادی المیے سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے کرد فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ انقرہ کو "اشتعال" نہ دلائیں۔

اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ "اگر ترکی نے کردوں پر حملہ کیا تو ہم اس کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیں گے۔ ہم 20 میل کے عرض میں سیف زون قائم کریں گے۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کردوں کی جانب سے ترکی کو اشتعال دلایا جائے"۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "شام میں داعش تنظیم کا قلع قمع کرنے کے لیے امریکا کی طویل المیعاد پالیسی سے سب سے زیادہ فائدہ روس، ایران اور شام نے اٹھایا۔ ہم بھی اس سے مستفید ہوئے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری فوج وطن واپس لوٹے۔ ان جنگوں کو روکا جائے جو کبھی ختم نہیں ہوتیں!".

امریکی صدر کی ٹویٹ میں کہا گیا کہ "شام سے اس انخلا کا آغاز ہو چکا ہے جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ البتہ ہم اس (داعش) کی واپسی کی صورت میں پڑوسی اڈوں سے ایک بار پھر نشانہ بنائیں گے"۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز اپنے بیان میں امریکا کے اس موقف کو سختی سے مسترد کر دیا جس میں ترکی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد شمالی شام میں مسلح کرد فورسز کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان اختلافات کا تعلق کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے تحفظ سے متعلق ہے۔ انقرہ اسے ایک "دہشت گرد" فورس شمار کرتا ہے جب کہ واشنگٹن دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں اہم کردار کے سبب کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا دفاع کرتا ہے۔

ترکی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کرد پروٹیکشن یونٹس کو شمالی شام سے نکالنے کے لیے کئی بار حملوں کی دھمکیاں دے چکا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2018 میں ترک کرنسی لیرا کی کارکردگی بد ترین رہی اور امریکی ڈالر کے مقابل اس کی قدر میں 30% کے قریب کمی واقع ہوئی۔

اسی طرح گزشتہ اکتوبر میں ترکی میں افراط زر کی شرح 25% تک پہنچ گئی جو گزشتہ 15 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ توقع ہے کہ رواں سال ترکی کی معیشت کساد کا شکار رہے گی اور موڈیز ایجنسی نے ترکی کی معیشت میں 2% سکڑاؤ کی توقع ظاہر کی ہے۔