.

لیبیا میں شدت پسندوں کے لیے ترکی کی سپورٹ کے 4 میڈیا پلیٹ فارم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی مسلح افواج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان کرنل احمد المسماری نے ترکی سے نشر ہونے والے لیبیائی سیٹلائٹ چینلوں سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اسلام اور دہشت گرد جماعتوں کے ایجنڈوں کے کام آنے والے یہ چینلز لیبیا کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے المسماری نے انکشاف کیا کہ ترکی نہ صرف ہتھیاروں کے پہلو سے بلکہ میڈیا کے ذریعے بھی لیبیا میں آگ بھڑکا رہا ہے۔ اس کی سرزمین پر ایسے کئی لیبیائی چینلوں کا وجود ہے جو شدت پسند عناصر اور دہشت گرد جماعتوں کے زیر انتظام ہیں اور لیبیا میں انارکی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

سال 2011 سے الاخوان المسلمین تنظیم کے زیر انتظام لیبیائی سیٹلائٹ چینلز نمودار ہوئے۔ ان کی فنڈنگ قطر نے کی اور ترکی نے انہیں اپنی سرزمین سے نشریات چلانے کی اجازت دی۔ لیبیا کی پارلیمنٹ اور قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک نے ان میں سے دو چینلوں کے ایجنڈوں اور مشتبہ مقاصد کو جاننے کے بعد انہیں دہشت گرد اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ ان چینلوں نے دہشت گرد جماعتوں کو سپورٹ پیش کی اور لیبیا میں اشتعال انگیزی اور پرتشدد کارروائیوں کو بھی ہوا دی۔

ان میں درج ذیل چینل شامل ہیں :

اس چینل کی نشریات کا آغاز 16 ستمبر 2015 کو استنبول سے ہوا۔ چینل کے سربراہ اسماعیل القريتلی ہیں۔ وہ الاخوان المسلمین تنظیم کے ایک لیبیائی رکن ہیں۔ القریتلی نے 2008 میں الجزیرہ چینل میں بطور پروگرامنگ ہیڈ کام بھی کیا۔ لیبیا کی پارلیمنٹ کی جانب سے 2017 میں جاری دہشت گرد عناصر کی فہرست میں القریتلی کا نام شامل کر لیا گیا۔

ليبيا الاحرار چینل

اس چینل کی نشریات کا آغاز مارچ 2011 میں دوحہ سے ہوا اور اس کی فنڈنگ قطر کی الریان کمپنی نے کی۔ بعد ازاں 2017 میں یہ چینل استنبول منتقل ہو گیا۔ اس کو چلانے والوں میں علی الصلابی جن کا نام قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک کی جانب سے جاری دہشت گرد عناصر کی فہرست میں شامل ہے ،،، اور الاخوان المسلمین کے رکن سلیمان دوغہ شامل ہیں۔ دوغہ لیبیا کے سکیورٹی حکام کو مطلوب افراد میں شامل ہیں کیوں کہ ان کا ایک دہشت گرد جماعت کے ساتھ تعلق ہے۔

التناصح چینل

یہ چینل ترکی سے نشر ہوتا ہے اور اس کو سہیل الغریانی چلا رہے ہیں جو لیبیا کے معزول مفتی الصادق الغریانی کے بیٹے ہیں۔ یہ چینل دہشت گرد جماعتوں اور مسلح ملیشیاؤں کی نفیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے اپنے آغاز کے وقت سے ہی اشتعال انگیزی بالخصوص لیبیا کی فوج کے خلاف تقاریر اور خطابات پر انحصار کیا۔

چینل نے الصادق الغریانی کے براہ راست فتوے نشر کیے جن میں لیبیا کے لوگوں کا خون بہانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان میں اہم ترین وہ فتوی تھا جس میں الاخوان المسلمین تنظیم کے عناصر کے لیے یہ بات جائز قرار دی گئی کہ وہ لیبیا میں الاخوان کے نظریات کو مسترد کرنے والے شہروں اور دیہات پر دھاوا بول دیں۔ اس کے نتیجے میں لیبیا کی پارلیمنٹ نے چینل کو دہشت گرد اداروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

لیبیا میں آزادی صحافت کے مرکز کی آخری رپورٹ میں بتایا گیا کہ التناصح چینل کے نشریاتی مواد میں 41 فی صد حصہ نفرت انگیزی اور اشتعال انگیزی پر مشتمل تھا۔

دہشت گردی کے انسداد کا مطالبہ کرنے والے چاروں عرب ممالک نے "التناصح" گروپ اور اس کے نگران عام الصادق الغریانی کو دہشت گرد عناصر اور اداروں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔

لیبیا پینوراما

یہ چینل قطر کی سرزمین سے اپنی نشریات چلا رہا ہے۔ یہ لیبیا میں الاخوان المسلمین تنظیم کے سیاسی ونگ یعنی جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے زیر انتظام ہے۔ چینل کو قطر کی جانب سے سالانہ 1.1 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ ملتی ہے۔