.

لیبیا کا قومی پرچم کی توہین پر لبنان میں عرب اقتصادی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا نے لبنان کی ایک شیعہ جماعت امل تحریک کی ایک توہین آمیز ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد بیروت میں ہونے والی عرب اقتصادی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری کی جماعت کے کارکنان نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے ۔اس میں وہ لیبیا کے قومی پرچم کو تار تار کررہے ہیں اور اسے ایک کھمبے سے اتار کر اس کی جگہ اپنی جماعت کا پرچم لگا رہے ہیں۔

لیبیا کے سوشل میڈ یا کے صارفین نے اتوار کو لبنانیوں کی جانب سے اپنے ملک کے خلاف توہین آمیز طرزعمل اپنانے پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا تھا۔

لیبیا کے مقتول لیڈر معمر القذافی کے بیٹے ہنیبل القذافی لبنان میں گذشتہ تین سال سے زیر حراست ہیں جبکہ لیبی شہری ان کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کے کیس کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے اور لبنان کی بیشتر سیاسی جماعتیں ان کے معاملے کی بنیاد پر عرب اقتصادی کانفرنس کو موخر کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

لیبیا کےایک سیاسی کارکن فضیل الامین نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ درست ہے کہ اس وقت ہمارا ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے لیکن ہم ایک باوقار قوم ہیں جس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ہم کسی بھی صورت اس بات کو تسلیم نہیں کرسکتے کہ ہمیں اس وقار سے محروم کیا جائے‘‘۔انھوں نے لبنانی حکام سے ہنیبل قذافی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لیبیا کی پارلیمان کے رکن صالح فہیمہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے قومی پرچم کو اتار پھینکنا کسی سخت گیر شخص کا انفرادی فعل ہوسکتا ہے۔یہ لبنانی عوام یا لبنانی ریاست کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا اور اس سے لیبیا اور لبنا ن کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

لبنان کی شیعہ کمیونٹی لیبیا کے مقتول لیڈر معمر قذافی کو ایک شیعہ عالم امام موسیٰ الصدر کی پُراسرار گم شدگی کا ذمے دار قرار دیتی ہے۔وہ 1978ء میں لیبیا کے سفر کے دوران میں لاپتا ہوگئے تھے۔ اس واقعے کو جواز بنا کر ہی لبنانی سیاست دان عرب اقتصادی کانفرنس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔