.

سفارت کاری کے ذریعے شام میں ایران کے فوجی وجود کو ختم کر دیں گے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب وزیر مملکت برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل کا کہنا ہے کہ ان کا ملک پورے خطے میں "ایران کی خطرناک سرگرمیوں" کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سرگرمیوں میں حزب اللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ شامل ہے۔

ہیل نے یہ بات پیر کے روز لبنانی عہدے داران سے ملاقاتوں کے بعد کہی۔ وہ لبنان میں امریکا کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔

بیروت میں لبنان کے نامزد وزیراعظم سعد حریری سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ہیل نے کہا کہ "ایسی کسی ملیشیا کے وجود کا جواز نہیں بنتا جو سرنگیں کھود رہی ہو اور سیکڑوں میزائلوں کا ڈپو بنا رہی ہو جو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے"۔ ان کا اشارہ ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کی جانب تھا۔

ڈیوڈ ہیل نے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا کہ واشنگٹن شام سے اپنی فوج کو نکال لے گا مگر امریکا اب بھی اس بات پر کاربند ہے کہ داعش کے دوبارہ جنم نہ لینے کو یقینی بنائے۔

ہیل نے زور دے کر کہا کہ "سفارت کاری اور اپنے شراکت داروں کے تعاون سے ہم شام سے ایران کے تمام تر عسکری وجود کو باہر نکال دیں گے۔ ہم اقوام متحدہ کے زیر قیادت سیاسی عمل کو کام میں لائیں گے جو وہ امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انجام دے رہی ہے"۔

لبنان میں حکومت کی تشکیل میں مشکلات کے حوالے سے امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف لبنان سے وابستہ ہے اور لبنانیوں کو اقتصادی صورت حال کی روشنی میں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

ڈیوڈ ہیل ہفتے کے روز بیروت پہنچے تھے۔ انہوں نے مختلف حکومتی عہدے داران اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ علاحدہ ملاقاتیں کیں۔