.

صومالی جنگجو گروپ الشباب کا نیروبی میں ایک ہوٹل کمپلیکس پر حملہ، 11 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے جنگجو گروپ الشباب نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک ہوٹل کے کمپلیکس پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے اس کمپلیکس میں خودکش بم دھماکا کیا تھا اور لوگوں پر اندھادھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک اور دس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے سائٹ انٹیلی جنس گروپ کی اطلاع کے مطابق القاعدہ سے وابستہ الشباب نے منگل کے روز نیروبی کے علاقے ویسٹ لینڈز میں ایک بڑے ہوٹل کمپلیکس ڈوسیٹ ڈی 2 پر حملہ کیا ہے۔کینیا کے حکام کے مطابق تین سے چار جنگجوؤں نے کمپلیکس پر منگل کی سہ پہر تین بجے کے قریب دھاوا بولا تھا۔انھوں نے وہاں گھس پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی تھی۔

اس کمپلیکس میں ایک ہوٹل ، بنک اور دفاتر واقع ہیں۔خودکش بم دھماکے کے بعد اس کے احاطے میں کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی تھی اور وہاں موجود لوگ جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر پناہ کے لیے بھاگنا شروع ہوگئے تھے اور انھوں نے قریبی عمارتوں میں چھپ کر اپنی جانیں بچائیں۔

حکام کے مطابق پولیس نے کئی گھنٹے تک حملہ آوروں کا مقابلہ کیا ہے اور ایک مسلح حملہ آور کو زندہ حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔تاہم انھوں نے دوسرے حملہ آوروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا وہ ہلاک ہوگئے ہیں یا فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بم دھماکے اور فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

حملے کی ابتدائی اطلاع کے بعد کافی دیر تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہی تھیں اور اس جگہ سے سیاہ دھویں کے بادل بلند ہورہے تھے۔

نیروبی میں پولیس کے ترجمان چارلس اوینو نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر پولیس افسر بھیج دیے گئے ہیں۔ان میں انسداد دہشت گردی یونٹ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ نیروبی پر ہیلی کاپٹر بھی پروازیں کررہے تھے۔

ہوٹل کے کمپلیکس پر حملے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینسوں ، سکیورٹی اہلکاروں اور آگ بجھانے والے عملہ کو بھی جائے وقوعہ پر بھیج دیا گیا ۔وہاں سے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور سکیورٹی فورسز نے حملے کی جگہ پر موجود بعض عورتوں کو بہ حفاظت نکال لیا ہے۔

یادرہے کہ صومالیہ کے انتہا پسند گروپ الشباب نے 2013ء میں بھی نیروبی میں ایک لگژری خریداری مرکز ویسٹ گیٹ مال پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔انھوں نے قریب قریب پورا دن وہاں خریداری کے لیے آنے والے افراد اور دکان داروں کو یر غمال بنائے رکھا تھا اور اس دوران میں وہ دستی بموں سے دھماکے کرتے رہے تھے۔