.

قیدیوں کے تبادلے سے متعلق صنعاء-حوثی مذاکرات اردن میں ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات کی میزبانی اردن کرے گا۔ اس امر کا اعلان اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز کیا۔

عمان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’’اردن نے قیدیوں کے تبادلے کے لئے یمن اور حوثی ملیشیا کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی درخواست قبول کر لی ہے۔‘‘ یہ درخواست اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے خصوصی ایلچی برائے یمن کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ حوثی ملیشیا اور یمنی حکومت اردن کے درالحکومت عمان میں قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں مذاکرات کریں گے۔

اردنی دفتر خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہاشمیٹ ریپبلک آف اردن یمن بحران کے حل کی خاطر اپنے ہر ممکن وسائل کے ساتھ یمنی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ فریقین کے متعمد ساتھیوں کے ذریعے ہم یمن بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ ’’اجلاس کا وقت دیگر انتظامی اور ابلاغی معاملات یمن میں یو این کے خصوصی ایلچی کے سیکرٹریٹ کے ذریعے طے کئے جائیں گے۔

اردن کے وزیر خارجہ اور سمندر پار شہریوں کے وزیر ایمن الصفدی نے رواں مہینے کے اوائل میں اپنی یمنی ہم منصب خالد الیمانی سے عمان میں اس وقت ملاقات کی تھی جب وہ یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کا اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ الثانی کے نام ہاتھ سے لکھا ہو خصوصی پیغام لے کر آئے تھے۔

دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس موقع پر ہونے والی ملاقات میں یمن بحران کے حل کے ضمن میں ہونے والی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی امور پر بات چیت کی۔

اردنی وزیر خارجہ نے اپنے یمنی ہم منصب کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’اردن، یمن بحران کو اقوام متحدہ کی قرارداد 2216، نیشنل ڈائیلاگ اور خلیجی اقدام کی روشنی میں حل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے تاکہ یمنی بھائیوں کی مشکلات ختم ہو سکیں اور ملک کا امن اور استحکام لوٹ سکے۔‘‘