.

امریکا داعش کی پنیری ہے: ایرانی سفارت خانے کا تندوتیز بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل کے لبنان کے دورے کے بعد بیروت میں ایرانی سفارت خانے نے ایک اشتعال انگیز بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا داعش کی پنیری ہے جس نے سبزے کو جلا دیا اور امریکا کی مالیاتی ، لاجسٹیکل اور علاقائی حمایت سے اس نے تباہی پھیلائی ہے ۔

ایرانی سفارت خانے نے سخت الفاظ میں امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ خطے میں مزاحمتی محوروں کو شکست دینا چاہتا ہے اور وہ وائٹ ہاؤس اور اس کے بغل بچہ صہیونیوں کے مقاصد کو پورا کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی سفارت خانے نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ڈیوڈ ہیل کے خطے کے دورے کے موقع پر بیانات کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔ان دونوں لیڈروں نے خطے میں ایرانی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے کوششوں کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔مائیک پومپیو نے شام سے تمام ایرانی بوٹو ں کو نکال باہر کرنے کےعزم کا اظہار کیا تھا۔

ایرانی سفارت خانے نے ان کے دورے کو ’’اشتعال انگیز ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اپنی دانش مند قیادت ، اس کی حکومت ، عوام ، فوج اور ذمے دار مزاحمت کی وجہ سے لبنان علاقائی توازن کی ایک قوت بن گیا ہے ۔وہ اپنے دشمنوں اور دوسروں کی ڈکٹیشن کے مقابلے میں ایک قلعہ بن چکا ہے۔وہ کسی کو بھی غلط فیصلے ڈکٹیٹ کرانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔

بیان کے مطابق ’’اسلامی جمہوریہ ایران بہادر لبنانی حکومت اور فوج کے ساتھ تعاون کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا‘‘۔

ڈیوڈ ہیل نے لبنان کے سرکاری دورے کے موقع پر نامزد وزیراعظم سعد الحریری سےملاقات کی تھی اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا خطے میں ایران کی خطرناک سرگرمیوں اور حزب اللہ ایسی گماشتہ دہشت گرد تنظیموں کا توڑ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

ڈیوڈ ہیل نے کہا :’’ یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ ریاست کے کنٹرول سے باہر ملیشیا موجود ہو اور وہ لبنانی عوام کو بھی جواب دہ نہ ہو۔ اس نے سرحدی علاقے سے اسرائیل کی جانب سرنگیں کھودی ہیں ۔ دس ہزار میزائلوں کا ذخیرہ جمع کیا تھا اور ان سے وہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ کا موجب بن رہی ہے۔

انھوں نے لبنانی فوج اور سکیورٹی فورسز کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ صرف لبنان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور یہ صرف اور صرف لبنانی ریاست کا حق ہے‘‘۔