.

امریکا میں ایرانی ٹیلی وژن کی خاتون رپورٹر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں پولیس نے ایران کے انگریزی زبان کے چینل "پریس ٹی وی" کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی خاتون رپورٹر کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم پولیس نے خاتون رپورٹر پر عائد الزام نہیں بتایا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق خاتون صحافی مرضیہ ہاشمی کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے دورے پر تھیں۔ مذکورہ خاتون کا سابقہ نام میلانی فرینکلن تھا۔ اس نے ایران آ کر اسلام قبول کیا اور پھر اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ اس کے بعد خاتون نے "پریس ٹی وی" چینل کے لیے بطور رپورٹر اور اینکر پرسن کام کیا۔

ایرانی ٹیلی وژن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ک مرضیہ کو سینٹ لوئس ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا اور پھر بنا کسی الزام عائد کیے اتوار کے روز واشنگٹن کے حراستی مرکز بھیج دیا گیا۔ یہ بات مرضیہ کے اہل خانہ اور دوستوں نے بتائی۔

ایرانی سوشل میڈیا پر سرگرم صارفین کا کہنا ہے کہ مرضیہ ہاشمی نے 2009 میں ایران میں سبز مزاحمتی تحریک کی کوریج میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس نے ایرانی خاتون ندی آغا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی تھی۔ ندی مذکورہ احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی گولی سے ہلاک ہونے والی پہلی خاتون تھی جب کہ حکومتی اداروں نے اس کے قتل سے برات کا اظہار کیا تھا۔