.

تیونس : پارٹی رہ نما کے لیے خصوصی معافی نے صدر کو مشکل میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں غیر سرکاری تنظیموں نے صدر الباجی قائد السبسی پر اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت صدرکی جانب سے اپنی سیاسی جماعت نداء تونس" کے ایک رہنما برہان بسيّس کو صدارتی معافی دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ برہان کو عدالت نے سابق صدر زین العابدین بن علی کے دور میں بدعنوانی کے حوالے سے مقدمے میں قصور وار قرار دیا تھا۔

مذکورہ غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر کے خلاف دائر مقدمے کے ساتھ یہ درخواست بھی پیش کی گئی ہے کہ 10 دسمبر 2018 کو دستخط شدہ صدارتی فیصلے پر عمل درامد کو روکا جائے جس میں برہان بسيّس کو خصوصی معافی سے نوازا گیا ہے۔

تیونس میں عدالت نے اکتوبر 2018 کو "نداء تونس" پارٹی کے سیاسی ذمے دار اور سابق صدر بن علی کے مقرب برہان بسیس کو دو سال قید اور 3 لاکھ دینار جرمانے کی فوری نافذ العمل سزا سنائی تھی۔ برہان پر الزام تھا کہ انہوں نے سابق صدر بن علی کے دور اقتدار میں بدعنوانی کا ارتکاب کیا اور اپنے لیے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔ تاہم تیونس کے صدر السبسی نے سزا کے ایک ماہ بعد ہی مداخلت کر کے خصوصی صدارتی معافی کا حکم جاری کر دیا اور برہان کو رہا کر دیا گیا۔

اس موقع پر صدر السبسی کو وسیع پیمانے پر بالخصوص جوڈیشل ایسوسی ایشن کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا کہ صدر نے قانونی اقدامات کی خلاف ورزی کے علاوہ وزارت انصاف کے فیصلے کی بھی عملی مخالفت کی۔ مذکورہ وزارت نے برہان کو معافی دیے جانے کو مسترد کر دیا تھا کیوں کہ انہوں نے اپنی سزا کا آدھا وقت مکمل نہیں کیا تھا۔

تیونس کا آئین ملک کے صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ وزارت انصاف بالخصوص معافی کمیٹی کے ساتھ مشاورت کے بعد کسی قیدی کے واسطے خصوصی معافی کا حکم جاری کر سکتے ہیں۔