.

امریکا نے اپنی سیکیورٹی کے لئے اسرائیل پر انحصار شروع کردیا؟

پینٹاگان کا اسرائیل میں تیار ہونے والے ’’آئرن ڈوم‘‘ راکٹ شکن سسٹم خریدنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تل ابیب میں حربی صنعت کے ذرائع نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج 2020ء میں اسرائیل ساختہ راکٹ شکن دفاعی سسٹم "آئرن ڈوم" کی دو بیٹریز خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کے خلاف استعمال میں آئیں گی۔

ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اس سمجھوتے کی فنڈنگ کے سلسلے میں 37.3 کروڑ ڈالر کا بجٹ منظور کروانے کے لیے کانگریس کا رخ کیا ہے۔

سکیورٹی امور سے متعلق امریکی ویب سائٹ inside defence نے بتایا ہے کہ امریکی فوج جلد از جلد یعنی 2020 تک مذکورہ دو بیٹریز حاصل کرنا چاہتی ہے کیوں کہ یہ آئرن ڈوم کے خصوصی ریڈار سسٹم کی خریداری سے متعلق ہے۔

اسرائیل کی عسکری صنعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "امریکا کا دوسرے ممالک سے اسلحہ خریدنا ایک نادر امر ہے جو کہ اس کی قومی سلامتی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے حالیہ دہائیوں میں امریکا کو ٹکنالوجی سسٹم فروخت کر چکا ہے تاہم اس مرتبہ امریکا کو ایک مربوط دفاعی سسٹم فروخت کیے جانے کی بات ہو رہی ہے"۔

دوسری جانب عبرانی زبان کے اسرائیلی اخبار "يديعوت احرونوت" کے مطابق آئرن ڈوم کی دو بیٹریز میں 12 لانچرز، دو سینسرز، دو مینجمنٹ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور 240 میزائل ہوں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ "امریکی فوج کو کئی برس سے ایسے سسٹم کی تلاش ہے جو اس کی فوج کو راکٹوں اور کروز میزائلوں، ڈرون طیاروں اور مارٹر گولوں سے تحفظ فراہم کر سکے۔

امریکا نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں پر مشتمل دفاعی سسٹم بنانے کی کوشش کی تھی مگر اس کی لاگت بہت زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ یہ سسٹم امریکی فوج کی تمام عملی ضروریات پوری کرنے میں بھی ناکام رہا۔ اس بنا پر امریکیوں نے اسرائیل سے (آئرن ڈوم) سسٹم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا"۔