.

انڈونیشیا میں مگر مچھ خاتون سائنسدان کو زندہ نگل گیا

جسم کی باقیات مگرمچھ کے جبڑوں سے برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا میں ایک افسوس ناک واقعے میں مگرمچھ خاتون سائنس دان کو کھا گیا۔ ڈیزی ٹووو نامی خاتون ریسرچ سینٹر میں کھانا دے رہی تھیں کہ مگرمچھ نے ان پر حملہ کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق میری نامی 17 فٹ لمبا مگرمچھ 44 سالہ ڈیزی ٹووو کو اس وقت گھسیٹتا ہوا انکلوڑر میں لے گیا جب وہ خوراک کھلانے کے دوران گوشت خصوصی طور پر بنائے گئے جوہڑ میں ڈال رہی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق مگرمچھ 4.5 میٹر لمبا تھا اور اس کا وزن تقریبا 600 کلو گرام یعنی 1300 پاونڈ تھا۔

حکام کے مطابق انڈونیشیا کے علاقے شمالی سلاویسی کے ریسرچ سینٹر میں مگرمچھ کو لوگوں نے اس حالت میں دیکھا جب خاتون سائس دان کی باقیات اس کے جبڑے کے اندر موجود تھیں۔

مگرمچھ کو ہر روز تازہ چکن اور گوشت دیا جاتا تھا۔ ماضی میں یہ انسان خود مگرمچھ دیگر مگرمچھوں پر بھی حملے کرتا چلا آیا ہے لیکن کبھی انسانوں پر حملے سے متعلق خدشات کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔ ڈیزی ٹووو کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ خاموش مزاج خاتون تھیں اور جانوروں سے انہیں بہت زیادہ لگائو تھا۔

واضح رہے کہ گذ شتہ سال جولائی میں انڈونیشیا کے صوبے پاپوا میں ایک 45 سالہ شخص مگرمچھوں کے ایک فارم میں سبزیاں چن رہا تھا کہ اس دوران ایک مگرچھ نے اس پر حملہ کرکے اسے جان سے مار دیا تھا۔ متوفی کی تدفین کے بعد اس کے رشتے داروں نے مقامی آبادی کے ساتھ مل کر فارم پر دھاوا بول دیا، وہ چھریوں، کلہاڑیوں اور ہتھوڑوں سے لیس تھے۔ مشتعل ہجوم نے فارم ہاوس کے دفتر میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے مگرمچھوں پر حملہ کر دیا، اور تین سو مگرمچھ کاٹ ڈالے۔ قبل ازیں فارم مالک نے لواحقین کو ہرجانے کی بھی پیش کش کی جسے نامنظور کیا گیا۔