.

برطانوی اپوزیشن تھریزا مے کی حکومت گرانے میں ناکام

عدم اعتماد کی تحریک 306 کے مقابلے میں 325 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم تھریزا مے کے خلاف لیبرپارٹی کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک 306 کے مقابلے میں 325 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی۔ جریمی کاربن کی جانب سے تھریزا مے کے پیروں تلے سے زمین کھینچنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ تھریزا مے کو بچانے میں ڈی یو پی اور کنزریٹو پارٹی کے باغی اراکین نے بھی ساتھ دیا۔

دارلعوام سے بریگزٹ معاہدہ منظور کرانے میں ناکامی کے بعد اپوزیشن لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے وزیراعظم تھریزا مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جس پر ایوان میں رائے شماری کرائی گئی۔ تحریک عدم اعتماد میں برطانوی وزیراعظم کی حمایت میں 325 اور مخالفت میں 306 ووٹ آئے اور اس طرح ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد 19 ووٹوں کے فرق سے ناکام ہوگئی۔

تھریزا مے نے کہا کہ وہ اپوزیشن رہنمائوں کے ساتھ بریگزٹ کے متبادل پلان پر بات چیت کا آغاز کرنا چاہتی ہیں، جبکہ جیرمی کوربن نے کہا کہ وہ اس وقت تک بات چیت کا آغاز نہیں کریں گے جب تک کہ تھریزا مے نو ڈیل بریگزٹ ختم نہیں کریں گی۔

ایس این پی کے این بلیک فور ڈ نے کہا کہ وہ صرف اس صورت میں بات چیت میں حصہ لیں گے اگر سیکنڈ ریفرنڈم اور توسیع آرٹیکل 50 پر غور کیا جائے جبکہ لیبر پارٹی نے کہا کہ حکومت کے خلاف مزید تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔ بریگزٹ پر حکومت کی تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ منگل کی شام ہونے والی ووٹنگ میں ڈیل کے خلاف 432 اور حق میں صرف 202 ووٹ پڑے تھے۔

گذشتہ روز تحریک عدم اعتماد سے قبل پارلیمنٹ میں بحث کے دوران لیبر لیڈر جیرمی کوربن وزیراعظم تھریزا مے کی انتظامیہ کو ’ذومبی‘ حکومت قرار دیا جو حکومت کرنے کے قابل نہیں اور ملک میں الیکشن کرائے جائیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ منگل کی شام تاریخی شکست کے بعد حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے تھا، جبکہ وزیراعظم تھریزا مے نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد ملک کے مفاد میں نہیں۔

لیبر پارٹی کے سینئر رہنمائوں کا اندازہ تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی، جبکہ تحریک کو لیبر پارٹی کے علاوہ ایس این پی، لب ڈیم، پلیڈ کمرو اور گرین پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ حکمران جماعت کے باغی ارکان نے بھی حکومت کے حق میں ووٹ دیا جبکہ حکومت کی حکمران جماعت ڈی یو پی کے 10 ارکان نے بھی حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔

لیبر لیڈر جیرمی کوربن نے کہا کہ وزیراعظم کا اصرار ہے کہ بریگزٹ ڈیل ملک کے لئے بہترین ہے تو پھر وہ الیکشن کرانے سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ وزیراعطم تھریزامے نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بریگزٹ ڈیل کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد کی صورت میں یورپ سے نکلنے کا مقررہ وقت میں توسیع کرنا ہوگی اور کسے معلوم کہ یہ توسیع کتنے عرصہ پر محیط ہو گی تاہم جیرمی کوربن کو ابھی تک اس ضمن میں دعوت نہیں دی گئی۔

سابق وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بریگزٹ ڈیل منطور کرانے کے لئے وزیراعظم کی کاوشوں کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریگزٹ کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے پر کوئی دکھ نہیں، 2016 میں ریفرنڈم کا نتیجہ آنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہو گئے تھے اور تھریزا مے نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔

پارلیمنٹ ایکٹ 2011 کے مطابق برطانیہ میں ہر پانچ برس کے بعد الیکشن منعقد ہوں گےاور آئندہ انتخابات 2022 میں منعقد ہونا ہیں، تاہم اگر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے تو نئی حکومت بنانے کے لئے دو ہفتوں کا وقت دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران کوئی بھی پارٹی اراکین کا اعتماد حاصل کرکے حکومت نہ بنا سکے تو انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں جو کہ 25 دن کے بعد ہو سکتے ہیں۔

یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اشارہ دیا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیل کی منظوری ممکن نہیں اور کوئی بھی ڈیل نہیں چاہتا تو کوئی ہمت کرکے بتائے کہ اس کا مثبت حل کیا ہے۔