.

تن خواہوں میں اضافہ مسترد ہونے پر تیونس کے سرکاری ملازمین نے ملک بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقا کے اہم ملک تیونس کی سب سے بڑی اجتماعی سودے باز انجمن جنرل لیبر یونین [UGTT] نے حکومت کی طرف سے تن خواہوں میں اضافے کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد ملک گیر ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ہڑتال کے باعث ملک میں ہوائی اڈے، سکول اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں روزمرہ کے معمولات چھ لاکھ ستر ہزار ملازمین کے کام پر نہ آنے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تیونس میں سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں اضافے پر پابندی دراصل عالمی مالیاتی ادارہ [آئی ایم ایف] کے دباو کے تحت شروع کئے گئے اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے تاکہ ملک کے میزانیے کا بڑھتا ہوا خسارہ کم کیا جا سکے۔ قرضہ دینے والے عالمی ادارے نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کی شرائط مانتے ہوئے تیونس میں اصلاحات نہ لائیں گئیں تو وہ تیونس کی مالی امداد روک دے گا جو 2011 میں زین العابدین حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔

ایک روزہ ہڑتال سے ہوائی اڈے، بندرگاہ، سکول، ہسپتال، سرکاری میڈیا سمیت سرکاری دفاتر میں کام متاثر ہو گا، تاہم تیونس کے وزیر اعظم یوسف شاہد کا کہنا ہے کہ حکومت ہو ابازی، بندرگاہ، بسوں اور ٹرینوں جیسے اہم شعبوں کو کسی نہ کسی حد تک چالو رکھنے کی کوشش کرے گی۔

تیونس کی قومی فضائی کمپنی کو ہڑتال کی وجہ سے بڑے پیمانے پروازوں کی منسوخی کے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ تیونس ائیر نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ کم سے کم 16 پروازوں کے ملتوی ہونے کی جہ سے وہ اپنی بکنگ تبدیل کرا لیں۔ وزیر اعظم شاید یوسف کے مطابق ہڑتال تیونس کو بہت مہنگی پڑے گی لیکن حکومت اس کے دباو میں آ کر سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں اپنے وسائل سے بڑھ کر غیر متناسب اضافہ کرنے کے قابل نہیں۔

تیونس کی جنرل لیبر یونین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سامی طاھری نے حکومت پر آئی ایم ایف کی بات ماننے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے ایسا کر کے سرکاری ملازمین سے محاذ آرائی کا مشکل راستہ چنا ہے۔ مزدور انجمن اور حکومتی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے ’’رائیٹرز‘‘ کو بتایا ہے کہ حکومت نے تن خواہوں کی مد میں اضافہ کے لئے 400 ملین ڈالر دینے کی تجویز پیش کی تھی مگر جنرل لیبر یونین اس مد میں 850 ملین ڈالرز دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اپنی بیمار معیشت کے دلدر دور کرنے، دیرینہ بجٹ خسارے میں کمی اور سرکاری ملازمین کی تعداد میں کٹوتی جیسی شرائط مان کر 2016ء میں تیونس کو آئی ایم ایف نے 2٫8 ارب ڈالر مالیت کا قرضہ دیا تھا، تاہم اس ضمن میں تیونس کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔ تیونس کے مطلق العنان حکمران زین العابدین کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے ملک ابتری کا شکار ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری اور افراط زر میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔