.

یمن: حوثی باغیوں پر زیرِ حراست خواتین پر تشدد کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں نے دسیوں عورتوں کو کسی الزام کے بغیر حراست میں رکھا ہوا ہے ،وہ انھیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کے خاندانوں کو بلیک میل کررہے ہیں۔

حوثی شیعہ باغیوں پر پہلے یہ الزام یمنی تنظیم برائے انسدادِ انسانی اسمگلنگ نے اختتام ہفتہ پر عاید کیا تھا۔اس گروپ کے بانی نبیل فاضل نے امریکی خبررساں ایجنسی اے پی سے جمعرات وک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے گرفتار خواتین ، سابق زیر ِحراست خواتین اور دوسرے ذرائع سے معلومات حاصل کی ہیں۔ان کے مطابق ان عورتوں کو قحبہ گری اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

حوثیوں نے گذشتہ سوموار کو اس رپورٹ کے ردعمل میں ایک بیان میں ان الزامات کو افواہیں قرار دے کر مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شرپسندوں کی ترجمانی ہے ۔اس کا مقصد سکیورٹی اداروں کے تشخص کو داغدار کرنا ہے۔حوثیوں نے خفیہ جیلوں کی موجودگی اور غیر قانونی اور بلا جواز پکڑ دھکڑ سے بھی انکار کیا تھا اور ان رپورٹس کے پس پردہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

یمن کے انسانی حقوق کے ایک وکیل نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان عورتوں کو گذشتہ مہینوں کے دوران میں کیفے اور پارکوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اب ان کے خاندان اپنی بیٹیوں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

یمن کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کو حوثی باغیوں کے زیر حراست خواتین پر تشدد اور انھیں جبری طور پر لاپتا کرنے سے متعلق معلومات ملی ہیں۔نبیل فاضل نے بتایا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے گذشتہ سال سلطان زابن کو صنعاء میں کریمنل انوسٹی گیشن ڈویژن کا سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد سے خواتین کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سلطان زابن نے اپنے تقرر کے فوری بعد قحبہ خانوں اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور اس دوران میں جن عورتوں کو گرفتار کیا گیا تھا، انھیں صنعاء بھر میں مختلف مقامات پر کوٹھیوں میں قائم خفیہ حراستی مراکز میں منتقل کردیا گیا تھا اور انھیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔

اے پی نے گذشتہ ماہ اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ چار سال کے دوران میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے اور انھیں اپنی جیلوں یا حراستی مراکز میں مقدمات چلائے بغیر منتقل کردیا گیا تھا۔ان میں سے بہت سے افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان کے چہروں پر لاٹھیوں کے تشدد سے نشان لگا دیے گئے تھے۔ان کی کلائیوں پر زنجیریں باندھ کر چھت سے لٹکا دیا گیا یا پھر ان پر تیزاب انڈیل دیا گیا تھا۔

حوثیوں پر خواتین پر تشدد اور انھیں زیر ِ حراست رکھنے کے الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کے متحارب فریق مذاکرات کے لیے اردن میں ہیں اور وہ سویڈن میں گذشتہ ماہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے طے شدہ سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے بات چیت کرنے والے ہیں۔