ایرانی جاسوس عسکری رازوں سے با خبر تھا : جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی میں وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا جانے والا افغان نژاد جرمن شہری عسکری رازوں سے با خبر تھا۔

جرمن اخبار Süddeutsche Zeitung کے مطابق عدالت نے جرمن فوج کی سائبر وار سے متعلق معلومات ایران کو پیش کرنے کے شبہے میں 50 سالہ ملزم عبدالحمید ایس کی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔

ملزم جرمنی کی افواج میں لسانی ماہر اور ثقافتی امور کے مشیر کے طور پر کام کررہا تھا۔ اسے منگل کے روز جرمنی کی مغربی ریاست Rhineland-Palatinate میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل جرمن اخبار اسپیگل آن لائن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملزم کے بارے میں شُبہ ہے کہ وہ گذشتہ کئی سال سے ایران کی خفیہ سروس کے لیے جاسوسی کر رہا تھا۔ جرمن فوج میں ملازمت کی وجہ سے اس کو افغانستان میں جرمن فوجیوں کی تعیناتی سمیت انتہائی حساس معلومات تک رسائی حاصل تھی۔ جرمن فوج نے ملزم پر معلومات افشا کرنے کا شبہہ 2017 میں ہی کر دیا تھا تاہم سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر توجہ تاخیر سے مرکوز کی گئی۔ ملزم کی کچھ عرصے کڑی نگرانی کی گئی جس کے بعد 6 دسمبر کو فیڈرل پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے اس کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

جرمن پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے منگل کے روز اپنے عدم اطمینان کا اظہارکیا ہے۔ فری ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے داخلہ امور کے ماہر اسٹیفن ٹوما کا کہنا ہے کہ "اگر اس شبہے کی تصدیق ہو گئی کہ جرمن فوج کا اہل کار کئی برسوں تک انتہائی حساس معلومات ایرانی انٹیلی جنس کو منتقل کرتا رہا تو اس امر کی وضاحت کی جانی چاہیے۔ ایسا کیوں ہوا کہ وہ بنا انکشاف کے طویل عرصے تک یہ سب کچھ کرتا رہا"۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں