سوڈان : عوامی احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ڈاکٹر اور بچہ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سوڈان میں ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے جمعرات کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ایک مظاہرے کو روکنے کے لیے ضرورت سے زیادہ پرتشدد طریقہ اپنایا جس کے نتیجے میں ڈاکٹر بابكر عبدالحميد اور ایک بچہ محمد عبيد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد خطرناک حد تک زخمی ہو گئی۔

جمعرات کے روز سوڈان کے چھ شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پولیس ترجمان نے درخواست کے باوجود ابھی تک واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سوڈان کے متعدد شہروں میں جاری مظاہروں کے دوران اب تک 42 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر اپوزیشن کی جماعت "حزب الامۃ" نے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں "مظاہرین کے خلاف مرتکب قتل کے جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات" کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل بین الاقوامی تنظیموں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے جب کہ یہ تنظیمیں اپنی رپورٹوں میں "نہتے شہریوں کے خلاف بھیانک جرائم" کی تصدیق کر چکی ہیں۔

سوڈانی پولیس نے جمعرات کے روز دارالحکومت خرطوم میں حکومت مخالف مظاہرین پر آنسو گیس چھوڑی ،،، یہ مظاہرین صدارتی محل کی جانب بڑھ رہے تھے۔ کارکنان نے "العربیہ" کو بتایا کہ مظاہرین کی وسیع پیمانے پر گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں