نائن الیون میں بچ جانے والا امریکی کینیا میں دہشت گردوں کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسان کی موت جہاں لکھی ہو وہ بڑے بڑے حادثات سے بچ کروہاں ضرور پہنچتا ہے۔ ایسا ہی ایک امریکی فوجی کے ساتھ ہوا۔ اس امریکی شہری کی 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والے حملوں میں موت یقینی تھی مگر وہ بال بال بچ گیا۔ نائن الیون میں بچ جانے والے امریکی کو دشت گردوں نے 18 سال کے بعد کینیا میں ہلاک کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جیسن سپینڈلر بدھ کے روز کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک ہوٹل پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں مارا گیا۔

امریکا نے بدھ کے روز بتایا کہ اس کا ایک شہری نیروبی میں ہوٹل اور تجارتی مرکز پر صومالی شدت پسندوں کے حملے میں مارا گیا ہے۔

سپنڈلر عالمی ٹریڈ سینٹرعالمی ٹریڈ سینٹرمیں قائم ایک بنک میں‌ملازم تھا۔ 11 ستمبرکو ٹریڈ سینٹر پر حملےسے صرف چند لمحے پہلے فرار ہوگیا۔ وہ طویل عرصے تک اپنے اہل خانہ سے دور رہا۔

نائن الیون کے حملوں کے بعد جیسن کی والدہ سارہ سپنڈلر کا ایک بیان سامنے آیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا فی الحال دوسروں کی مدد کے لیے واپس آگیا ہے۔ وہ خود اور گرد سے اٹا ہوا ہے۔

یوں جیسن سے آج سے 18 سال قبل اپنے سامنے موت دیکھی مگر اس کی موت اسے کینیا لے گئی۔ اس نے کینیا میں اپناکاروبار شروع کیا اور وہیں اس کی موت واقع ہوگئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں