.

میکسیکو میں تیل کی پائپ لائن میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 66 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میکسیکو میں جمعہ کی شام تیل کی ایک پائپ لائن میں دھماکے کے بعد آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 66 ہوگئی ہے اور 76 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ افسوس ناک واقعہ میکسیکو کی وسطی ریاست ہائیڈلگو میں واقع قصبے تلہلوئلیل پا ن میں پیش آیا تھا ۔اس وقت مقامی لوگوں کی بڑی تعداد تیل کی ایک بڑی پائپ لائن سے تیل چُرا کر لے جارہی تھی۔اس دوران میں اچانک ایک زور دار دھماکا ہوا اور پائپ لائن کو آگ لگ گئی جس سے دسیوں افراد زندہ جل گئے اور ان کی لاشیں ناقابل شناخت ہو گئی ہیں۔

اس واقعے کی ویڈیو ز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں ۔دھماکے کے بعد فوج نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کررکھا تھا۔حکام نے آگ پر قابو پا لیا ہے۔وہاں ہر طرف مرنے والوں کے جلے ہوئے جوتے اور برتن پڑے تھے۔مقامی لوگ ان برتنوں ، بالٹیوں اور ڈرموں میں تیل لینے کے لیے آئے تھے۔

ریاست ہائیڈلگو کے گورنر عمر فیاض نے ہفتے کے روز میکسیکو کے صدر آندرس مینول لوپیز اوبراڈور کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں تیل کی پائپ لائن میں دھماکے سے 66 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔صدر لوپیز نے 27 دسمبر کو ملک میں پائپ لائنوں سے تیل کی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور پائپ لائنوں کو عارضی طور پر بند کردیا تھا۔

انھوں نے فوجیوں کے تیل پائپ لائن سے لوگوں کو تیل کی چوری روکنے میں ناکامی اور انھیں منتشر کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہ کرنے کا دفاع کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’’ ہم آگ سے آگ کی لڑائی نہیں چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں لوگ اچھے اور دیانت دار ہیں اور اگر وہ اس انتہا تک پہنچ گئے ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ انھیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح سماجی مسائل کا خاتمہ کرنا ہے جس کی وجہ سے لوگ چند لیٹر تیل لینے کی خاطر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ میکسیکو کے فیڈرل پراسیکیوٹر ایلجاندرو جرٹز کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات پیچیدہ ہوگئی ہے کیونکہ جائے وقوعہ پر موجود ہر کوئی مارا گیا ہے۔