.

افغان صدر اشرف غنی کے بہ طور صدارتی امیدوار کاغذاتِ نامزدگی جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر اشرف غنی نے جولائی میں ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بہ طور امیدوار حصہ لینے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔

صدارتی انتخابات کی دوڑ میں چودہ اور امیدوار بھی سامنے آئے ہیں۔ان میں صدر غنی کے ساتھ حکومت میں شریک چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ اور سابق جنگی سردار گلبدین حکمت یار بھی شامل ہیں ۔

اشرف غنی نے اس مرتبہ اپنے ساتھ صدارتی ٹیم میں شامل اول نائب صدر ، بدنام زمانہ ازبک جنگی سردار عبدالرشید دوستم کو تبدیل کردیا ہے اور ان کی جگہ سابق اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار امر اللہ صالح کو نامزد کیا ہے۔ وہ نسلی طور پر تاجک ہیں اور طالبان کے سخت مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

افغان صدر خود نسلی طور پر پشتون ہیں ۔انھیں صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے پشتونوں کے علاوہ دوسرے نسلی گروپوں کی بھی حمایت درکار ہوگی۔انھوں نے اتوار کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایک مضبوط حکومت ہی موجودہ بحران کو حل کرسکتی ہے۔ملک کو گذشتہ چالیس سال سے جس بحران کا سامنا ہے، وہ ایک مضبوط مرکزی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے ہے‘‘۔

وہ ایک مضبوط مرکزی حکومت کی عدم موجودگی کو جواز بنا کر ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخابات کی دوڑ میں تو کود پڑے ہیں لیکن وہ اپنے موجودہ دورِ اقتدار میں افغانستان میں طالبان کی مزاحمتی سرگرمیوں اور دوسرے گروپوں کی تشدد آمیز کارروائیوں پر قابو پانے اور ملک میں امن وامان بحال کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ان کی حکومت کے دور میں طالبان جنگجوؤں کی تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ریکارڈ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ نیز نسلی گروہوں کے درمیان تقسیم اور سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مقابلے میں گذشتہ روز سابق جنگی سردار گلبدین حکمت یار نے 20جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ا علان کیا تھا۔انھوں نے جنگ زدہ ملک میں امن وسلامتی کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا تھا اور کہا کہ موجودہ حکومت طالبان کے ساتھ جنگ کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔انھوں نے بھی یہ کہا تھا کہ ’’ ہمارے ملک کی صورت حال ایک منتخب صدر کی قیادت میں طاقتور مرکزی حکومت کی متقاضی ہے اور اس کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہونی چاہیے‘‘۔

اس دوران میں امریکا نے افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کررکھی ہیں اور وہ آیندہ حکومت میں طالبان کی شمولیت کے لیے کوشاں ہے۔امریکا کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد علاقائی ملکوں کے دورے کررہے ہیں۔انھوں نے گذشتہ ماہ ابو ظبی میں طالبان کے نمایندوں سے ملاقات کی تھی ۔انھوں نے پاکستانی حکام کے توسط سے طالبان کو اسلام آباد میں مذاکرات کی پیش کش کی تھی لیکن انھوں نے ان کی اس پیش کش کو مسترد کردیا ہےاور ان سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔