.

سنہ 2016ء کےبعد ترک فوج کے 15 ہزار 213افسر اور سپاہی برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ 15 جولائی 2016ء کو فوج کے ایک گروپ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد اب تک کم سے کم پندرہ ہزار 213 فوجی افسروں اور جوانوں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزارت دفاع کی ترجمان نادیدہ شبنم اکطوب نے انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سےخطاب میں کہا کہ بغاوت میں حصہ لینے کے شبے میں 6 ہزار 838 فوجیوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں شبنم اکطوب کاکہنا تھا کہ فوجیوں کے خلاف تحقیقات ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں فتح اللہ گولن کی جماعت کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ فوجی بغاوت کے بعد ترکی نے فتح اللہ گولن کی جماعت پر پابندی لگانے کے بعد اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیاتھا۔

ترک حکومت فتح اللہ گولن اور ان کی جماعت پر بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عاید کرتی ہے، تاہم فتح اللہ گولن اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

حال ہی میں ترک وزیر قانون عبدالحمید گل نے کہا تھا کہ فتح اللہ گولن کی جماعت سے تعلق کے الزام میں 31088 افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔