.

امریکی بحری جہازوں کو بحیرہ اسود سے دور ہو جانا چاہیے : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی فیڈریشن کونسل (پارلیمنٹ کا ایوان بالا) کے ایک اہم رکن الیگزی بوشکوف کا کہنا ہے کہ کے بحیرہ اسود میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی موجودگی کا امریکا کے امن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس اقدام کے پیچھے یقینا داخلہ پالیسی کارفرما ہے۔

گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی بحری جنگی جہاز ڈونلڈ کُک ہفتے کے روز بحیرہ اسود کی جانب متحرک ہوا تھا۔ امریکی بحریہ کے بیان کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد سمندری سکیورٹی آپریشن، علاقائی بحری استحکام اور مشترکہ بحری صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔

روسی میڈیا ایجنسی نے روسی قومی دفاع کے کمان مرکز کے حوالے سے بتایا ہے کہ بحیرہ اسود میں روسی بیڑے نے امریکی بحری جہاز کے علاقے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی اس پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔

بوشکوف نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر لکھا کہ "بحیرہ اسود میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی آمد و رفت بار بار دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان دوروں کا امریکا کی سکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے ".

بوشکوف نے مزید کہا کہ "یہ لوگ اپنے پرچم کی نمائش کرتے پھر رہے ہیں اور ہمیں اشارہ کرتے ہیں۔ یہ اپنے ارکان پارلیمنٹ کو خوش کر رہے ہیں جو بحیرہ اسود میں ایک مکمل بیڑہ بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ہمارے ساحلوں سے دُور رہیں".

روس کی ایک عدالت میں رواں ہفتے یوکرائن کے 24 ماہی گیروں کی حراست کا معاملہ زیر سماعت آیا۔ روس نے نومبر میں ان ماہی گیروں اور ان کے جہاز کو آبنائے کیرچ میں تحویل میں لے لیا تھا۔ ان ماہی گیروں پر روسی علاقائی پانی میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام ہے۔

دوسری جانب امریکی بحری جہاز ڈونلڈ کُک کے کمانڈر میتھیو جے پاول کا کہنا ہے کہ "ہمارا بحیرہ اسود میں داخل ہونا ،،، تعاونی عمل پر بحریہ کی قدرت کو ظاہر کرے گا۔ اس کا مقصد مشترکہ سکیورٹی اہداف کی پیروی کرنا ہے۔ اس طرح ہمارے لیے مستقبل میں کسی بھی بحران سے نمٹنا یا کسی بھی جارحیت کا جواب دینا ممکن ہو گا"۔